اسرائیلی نیلامی میں یمن سے 6 نوادرات اگلے ماہ فروخت کیلئے پیش

نیلامی کا اہتمام مشہور اور متنازعہ اسرائیلی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر رابرٹ ڈوئچ نے عالمی پلیٹ فارم ’’بِڈ سپریٹ‘‘ پر کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی نوادرات کے محقق عبداللہ محسن نے انکشاف کیا ہے کہ یمن سے 6 نوادرات آئندہ اپریل کے آخر میں اسرائیلی نیلامی میں نمائش کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ عبد اللہ محسن نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ “25 اپریل 2024 کو یمن سے 6 آثار قدیمہ کے نمونے آثار قدیمہ کے مرکز کی نیلامی میں نمائش کے لیے پیش کیے جائیں گے، اس نیلامی کا اہتمام مشہور اور متنازعہ اسرائیلی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر رابرٹ ڈوئچ نے بین الاقوامی نیلامی پلیٹ فارم Bidsprite پر کیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پہلا شاہکار پہلی سے چوتھی صدی عیسوی تک کا ایک چھوٹا کانسی کا مجسمہ ہے جس میں ایک بیٹھی ہوئی عورت نے ایک پرندہ اور ایک پیالہ پکڑ رکھا ہے اور اس کے سینے پر اور اس کی نشست پر کے گرد ایک نوشتہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا شاہکار پانچویں صدی قبل مسیح کا ایک کرچنگ کانسی کا آئی بیکس ہے اور اس کا رنگ بھورا اور سبز ہے۔ تیسرا شاہکار پہلی صدی عیسوی سے بریسلیٹ پہنے ہوئے کانسی کا ایک نایاب مادہ بازو ہے۔ اس میں وضاحت کی گئی کہ چھوٹی انگلی کی مرمت کی گئی لیکن یہ اچھی حالت میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس شاہکار کو ایک سال قبل نیلامی میں پیش کیا گیا تھا ابتدائی قیمت کی وجہ سے اسے فروخت نہیں کیا جا سکا تھا۔

چوتھا شاہکار ساتویں صدی قبل مسیح کا ایک اونٹ کا کانسی کا مجسمہ ہے جس کے دونوں طرف ایک نوشتہ دکھایا گیا ہے۔ پانچواں شاہکار ایک اور کانسی کا اونٹ ہے۔ چھٹا شاہکار قدیم یمنی طرز کا ایک کانسی کا بکری کا سر ہےجو چوتھی صدی قبل مسیح کا ہے۔ یہ شاندار سبز رنگ سے رنگا ہوا ہے۔ محقق نے بتایا کہ اس نیلامی میں گزشتہ چھ سالوں کے دوران متعدد یمنی نوادرات کی فروخت کی گئی تھی۔ ان کارروائیوں کو روکنے میں یمنی حکومت نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں