میسی نے معمر اسرائیلی خاتون کو حماس کے جنگجوؤں سے کیسے بچایا؟

سات اکتوبر کو 90 سالہ کونیو نے دو مسلح فلسطینیوں کو کہا میں میسی کے آبائی شہر سے ہوں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سات اکتوبر کی صبح حماس نے غزہ کی سرحد کے قریب آبادی کے مراکز پر حملہ شروع کیا۔ فلسطینی جنگجوؤں نے نیر عوز کی رہائشی آبادی پر حملہ کیا جہاں ارجنٹائن میں پیدا ہونے والی کونیو بھی رہتی تھیں۔ 90 سالہ کونیو نے حماس کے حملے کے بارے میں ایک نئی دستاویزی فلم میں خوفناک تصادم کے بارے میں بات کی جو اسرائیل کی لاطینی کمیونٹی پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا جب دونوں بندوق برداروں نے ان کے باقی خاندان کے بارے میں جاننا چاہا تو کونیو نے ان سے کہا کہ مجھ سے بات نہ کریں، کیونکہ میں آپ کی زبان نہیں سمجھتی، آپ عربی بولتے ہیں اور میں بمشکل عبرانی بولتی ہوں، میں ارجنٹائنی ہسپانوی بولتی ہوں۔ اس پر فلسطینی افراد نے مجھ سے پوچھا ارجنٹینا کیا ہے؟

کونیو نے فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی اس گفتگو کو عبرانی اور ہسپانوی الفاظ اور اشاروں کے آمیزے کے ساتھ لیجنڈ فٹبالر لیونل میسی تک پہنچا دیا اور کہا 'کیا تم فٹ بال دیکھتے ہو؟' فلسطینی نے کہا : 'ہاں، ہاں، مجھے فٹ بال پسند ہے۔' کونیو نے بتایا میں نے اسے کہا 'میں میسی کے آبائی شہر سے ہوں۔' فلسطینی نے جواب دیا 'میسی! میں میسی سے پیار کرتا ہوں۔'

اس وقت ایک فلسطینی بیٹھی ہوئی کونیو پر جھک گیا اور اپنی بندوق اس پر رکھ دی۔ دوسرے نے اس کی تصویر کھینچی۔ معمر خاتون نے مزید بتایا کہ اس نے اپنا ہاتھ خاص انداز میں رکھا اور انہوں ہماری تصویر کھینچی اور پھر وہ چلے گئے۔ کونیو اور اے کے رائفل کی تصویر نقاپ پوش حملہ آور کے ساتھ سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔ اس نقاب پوش نے اپنی فوجی جیکٹ پر فلسطینی پرچم بھی لگا رکھا تھا۔ حملہ آور نے اسلامی جہاد موومنٹ کی پٹی سر پر پہن رکھی تھی۔

یاد رہے سات اکتوبر کے حملے میں نیر عوز بستی اور دیگر علاقوں سے کنیو خاندان کے افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ معمر خاتون کے پوتے 33 سالہ ڈیوڈ اور 26 سالہ ایریل اب بھی غزہ میں زیر حراست ہیں۔ ڈیوڈ کو اس کی بیوی اور جڑواں بچوں سمیت اغوا کیا گیا تھا اور پھر نومبر میں بیوی اور بچوں کو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا۔ اسرائیلی دادی نے کہا کہ وہ اب بھی دونوں پوتوں کی واپسی کا انتظار کر رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں