پاکستان کی عظیم مسجد کے مؤذن کی آواز رمضان المبارک میں مؤمنین کو پکارتی ہے

فیصل مسجد میں نور الاسلام کی اذان سننے کے لیے عقیدت مند میلوں کا سفر کرتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

طلوعِ فجر سے چند لمحے قبل نور الاسلام دنیا کی سب سے بڑی مساجد میں سے ایک کی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے غار نما ہال میں داخل ہوتے ہیں اور ہلکے سے بجتے ہوئے مائیکرو فون کے سامنے نماز ادا کرتے ہیں۔

اس کے بعد 32 سالہ نوجوان ایک گہرا سانس لیتے اور صبح کی نماز کے لیے اذان دیتے ہیں - ایک زوردار لیکن ہلکی پھلکی پکار پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پھیل جاتی ہے جو رمضان کے دوران دن کی روشنی کا آغاز ہوتا ہے۔

فیصل مسجد میں جو قوم کی عقیدت کے لیے سنگِ مرمر کی ایک عظیم یادگار ہے، اسلام نے اے ایف پی کو بتایا، "آواز خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے۔"

انہوں نے کہا، "اگر آپ کے ارادے سچے ہیں تو آپ کی آواز میں لوگوں کے دلوں کو چھونے کی طاقت ہو گی۔" پوری مسلم دنیا میں مؤذن دن میں پانچ بار "اذان" بلند کرتے ہیں۔ رمضان کے مہینے میں جہاں نمازیں پاکستان میں 14 گھنٹے کے روزے کے آغاز اور اختتام کا اعلان کرتی ہیں، وہاں مومنین خاص طور پر متوجہ ہوتے ہیں۔ کلمات اور تال ہر جگہ یکساں ہے۔

مینار کے لاؤڈ سپیکر سے عربی میں لہجے میں یہ مسلمانوں کو یاد دلاتی ہے: "اللہ سب سے بڑا ہے" اور انہیں "نماز میں جلدی کرنی چاہیے۔" لیکن مؤذنین کے درمیان ایک پر سکون درجہ بندی ہے۔

خاص طور پر سریلی آواز والا مؤذن مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو بڑھا سکتا ہے۔ ممکن ہے گھر تلاش کرنے والے افراد پیشکش کرنے سے پہلے قریبی مسجد کی اذان کو مدِنظر رکھیں۔ اور باوقار مساجد میں نوکری انتہائی مطلوب ہوتی ہے۔

فرزندان توحید 22 اپریل 2023 کو اسلام آباد کی عظیم فیصل مسجد میں نمازِ فجر کے لیے جمع ہیں۔ (اے ایف پی/فائل)
فرزندان توحید 22 اپریل 2023 کو اسلام آباد کی عظیم فیصل مسجد میں نمازِ فجر کے لیے جمع ہیں۔ (اے ایف پی/فائل)

فیصل مسجد - ایک قومی نشان جو 1986 میں 300,000 نمازیوں کی فرضی گنجائش کے ساتھ کھولی گئی تھی - میں تین مؤذنین کے کردار مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات سے باہر کی دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی ہیں۔

مقدس اذان

فیصل مسجد کے چار بلند و بالا میناروں سے آنے والی روح پرور آواز نے اسلام کو مسحور کر دیا جب وہ ایک نوجوان کے طور پر 105 کلومیٹر (65 میل) دور اپنے آبائی شہر سے پاکستان کے دارالحکومت آئے تھے۔ انہوں نے کہا، "ہر مسلمان اذان دینے، نماز پڑھنے یا معروف مسجد میں خطبہ دینے کی خواہش رکھتا ہے۔ ہر متقی مسلمان کا یہ خواب ہوتا ہے۔"

اس کا موقع 2018 میں آیا جب ایک آسامی کھلی اور انہون نے 400 دیگر امیدواروں کو اس عہدے کے مقابلے میں شکست دی۔ جب مائیکرو فون کی طرف بڑھتے ہیں تو اسلام اپنے کانوں میں انگلیوں دے دیتے ہیں تاکہ اپنی آواز کے علاوہ تمام آوازوں کو روک سکیں۔

مسجد کے سامنے 57 سالہ تاجر عزیز احمد نے کہا، "خوبصورت اور درست تلفظ کے ساتھ دی جانے والی اذان لوگوں میں گونجتی ہے۔" اسلام کے کچھ ساتھی مؤذن راک اسٹارز اور تھیٹر کے فنکاروں کی طرح اپنے گلے کی بہت ناز برداری کرتے ہیں۔ وہ شہد والے مشروبات پیتے ہیں اور ٹھنڈی ہواؤں اور تیل میں ڈوبے پاکستانی کھانوں سے پرہیز کرتے ہیں۔

اسلام مسکراتے ہیں۔"اس معاملے میں میں ایک لاپرواہ شخص ہوں۔ میں خود کو روک نہیں سکتا۔" بہر حال وہ اپنے پیشے سے عاجزانہ تعظیم سے پیش آتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "اذان کا بنیادی مقصد لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینا ہے۔ آپ اس کو مؤثر طریقے سے تب ہی پورا کر سکتے ہیں جب آپ خالص دل کے مالک ہوں۔"

"اذان میں کسی قسم کی تاخیر یا اخلاص کی کمی ممکنہ طور پر ہمارے ایمان کو خراب کر سکتی ہے۔" ایک کم معیاری اذان کو مؤذنین کی طرف سے ایک "رسمی" کارروائی سمجھا جاتا ہے جو "جعلی آوازیں" بناتے ہیں۔ اسلام نے کہا ایک اچھی اذان "سیدھا میرے دل میں اتر سکتی ہے۔"

لیکن یہ عہدہ شہرت کے ساتھ آتا ہے۔ فیصل مسجد میں اذان سننے کے لیے عقیدت مند میلوں کا سفر کرتے ہیں، اسلام کو کام کرتا دیکھنے کے لیے کھڑکیوں سے جھانکتے ہیں اور بعد میں سیلفیز کا تقاضہ کرتے ہیں۔ صوابی کے قصبے میں انہیں ایک مقامی ہیرو سمجھا جاتا ہے۔

اب اسلام مقدس شہر مکہ کی عظیم الشان المسجد الحرام میں مؤذن کی حیثیت سے مزید ترقی کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں ان احساسات کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ ہر مسلمان کو اپنے اور خدا کے درمیان یہ رشتہ قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔" "اس میں سکون ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں