یمن: کم عمری کی شادی کی وجہ سے 30 فیصد لڑکیاں تعلیم چھوڑ دیتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے "کھوئی ہوئی تعلیم کا معاوضہ" کے عنوان سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن میں 30 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کر دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یمن میں کم عمری کی شادی کی وجہ سے تقریباً ایک تہائی لڑکیاں تعلیم چھوڑ دیتی ہیں اور ان کے تعلیم کے حصول کی طرف واپس آنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں ناخواندگی کی سطح دوگنی ہو جاتی ہے۔ اس سے ناخواندگی اور نسل در نسل غربت کا دورہ شروع ہوجاتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یمن میں 9 سال سے طویل تنازعہ جاری ہے۔ یہ تنازعہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی لہروں کا باعث بنا۔ اسی طرح یہ ملکی معیشت کی تباہی، بنیادی خدمات کی فراہمی کے نظام کی ناکامی اور تعلیم کے بگاڑ کا سبب بھی بن گیا۔

یونیسیف نے وضاحت کی کہ یمن میں ہر چار میں سے ایک بچہ سکول نہیں جاتا اور یہاں تک کہ وہ بچے جو سکول جا سکتے ہیں وہ حد سے زیادہ بچوں والی کلاس رومز اور ناقص تعلیمی سہولیات کا شکار ہیں۔ حوثی باغیوں کے زیر کنٹرول گورنریٹس میں اساتذہ کی تنخواہیں تقریباً 2016 سے معطل ہیں۔ یاد رہے ملک کے شمال میں حوثی گروپ کا کنٹرول ہے۔

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ یونیسیف ایسے بچوں کو پڑھنے، لکھنے اور عددی مہارتوں کے بارے میں مفت اسباق فراہم کرنے کی حمایت کرتا ہے جو تعلیم کے متحمل نہیں ہیں یا جو رسمی تعلیم چھوڑ چکے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انہیں بامعنی تعلیمی مواقع تک رسائی حاصل ہو اور جب بھی حالات اجازت دیں یہ بچے رسمی تعلیم کی طرف لوٹ سکیں۔

اقوام متحدہ کے چلڈرن فنڈ نے انکشاف کیا یورپی یونین کی جانب سے فنڈز کی بدولت وہ سکول چھوڑنے والے بچوں کے لیے غیر رسمی تعلیم کے پروگراموں کو چلا رہا ہے۔ اساتذہ کو ماہانہ مراعات کے ساتھ مدد فراہم کی جاتی ہے۔ یونیسیف اب تک مجموعی طور پر 50 ہزار بچوں کی مدد کر چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں