سعودی عرب میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ

دستاویزی فلم میں سعودی خواتین نے بتایا وہ سعودی عرب میں مردوں کے ساتھ کیسے برابری کی سطح پر آگئیں، کس طرح ویژن 2030 نے انہیں خود کو ثابت کرنے اور اپنے اہل خانہ کی کفالت کرنے کا موقع فراہم کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہوکر زندگی کے ہر شعبہ میں خود کو منوا رہی ہیں۔ دبئی سے ریاض جانے والے طیارے میں سکرین پر دکھائی جانے والی فلموں کے درمیان سعودی عرب کی طرف سے تیار کردہ ایک دستاویز فلم میں سعودی عرب میں خواتین کے حوالے سے آنے والی تبدیلوں سے آگاہ کیا گیا ہے کہ کس طرح خواتین سعودی معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں سے نمٹ رہی ہیں۔ سعودی عرب اپنے ’’ویژن 2030‘‘ کے تحت ایک سماجی اور ثقافتی تحریک کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ وسیع تغیرات کے ذریعہ آنے والی یہ تبدیلی معاشی اور قانونی طور پر بھی اہم ہے۔

چار سعودی خواتین نے دستاویزی فلم میں بے ساختہ انداز میں اپنی مختلف کہانیاں بیان کیں۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ برسوں سے زندگی گزارتے ہوئے تلخ تجربات کا حصہ رہیں۔ انہوں نے کیمرے کے عدسے کے سامنے بلا روک ٹوک اپنے سینے سے راز بیان کئے۔

کیمرے کا عدسہ عام طور پر غیر جانبدار ہوتا ہے اور منظر کو محفوظ کرتا ہے۔ کیمرا نہیں جانتا کہ ہنسنے اور آنسو میں فرق کیسے کیا جائے۔ تاہم دستاویزی فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر نے ناظرین کو ندی البصیلی کے اندر کا احساس سے آگاہ کرنے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ وہ اپنے شوہر سے ملنے والے اجازت نامے کے ذریعے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے بیرون ملک سفر کرتی تھی۔ شوہر پہلے ہی فوت ہو چکا تھا۔ ندی نے بتایا کہ: زندہ اور مردہ! ناظرین کو ایک تاریک مزاح پیش کیا جاتا تھا۔ یہ عجیب تضاد تھا کہ جو مٹی کے نیچے ہیں وہی اپنے اوپر والوں کو جانے کی اجازت دیتے ہیں!

ندہ البصیلی ایک بیوہ تھیں اورجرمنی میں طب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکالرشپ پر تھی۔ اس دوران وہ سرپرستی، وصیت، وراثت اور تحویل کے حوالے سے مسائل کا شکار تھیں۔ لیکن اس نے ان مشکلات کے سامنے ہمت نہیں ہاری اور ان پر قابو پانے کے لیے کام کیا۔ حتی کے خادم حرمین شریفین کی جانب سے تمام متعلقہ سرکاری اداروں کو ہدایت دے دی گئی کہ "خواتین کو خدمات کے حصول کے لیے اپنے سرپرست کی منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ "حکم" سامنے آیا تو ندہ البصیلی اور دیگر سعودی خواتین کے لیے سرکاری خدمات میں مردوں کے ساتھ مساوی ہونے کے دروازے کھل گئے ۔

دستاویزی فلم میں صرف ندہ البصیلی نے نہیں بلکہ سارہ المالکی، جمعہ القحطانی اور شریفہ العنزی نے بھی اپنی کہانیاں سنائیں۔ ان خواتین کا تعلق مختلف شہروں اور متنوع ماحول سے تھا۔ ان میں سے کچھ خواتین کو کسی حد تک عدم مساوات کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

دستاویزی فلم میں آنیوالی یہ خواتین سعودی معاشرے کی کوکھ کی مثال بنیں۔ یہ سٹارز ، کاروباری خواتین، مصنفین یا سفارت کار نہیں تھیں جو میڈیا میں آنے کے عادی تھیں اور یہی بات سعودی وزارت اطلاعات کے "گورنمنٹ کمیونیکیشن" سنٹر کے ذریعہ تیار کردہ دستاویزی فلم کی سب سے اہم طاقت ہے۔

ٹیکسی ڈرائیور شریفہ العنزی ، گروسری سٹور کے مالکہ جمعہ القحطانی، ٹور گائیڈ سارہ المالکی اور ڈاکٹر ندا البصیلی نے فلم میں شرکت کی۔ وہ سب مختلف پیشوں اور شعبوں میں کام کرتی ہیں۔ ان شعبوں میں سے کچھ کچھ کو مردوں تک محدود کر دیا گیا تھا۔ ان خواتین نے دقیانوسی تصور کو تبدیل کر دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ان خواتین میں سے ایک کو ٹیکسی چلانے میں یا دوسری کو اپنی گروسری کی دکان پر مصنوعات بیچنے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں