دیگر ملکوں کی شہریت کے خواہاں امیر امریکی لوگوں کی تعداد ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی

پرتگال کے لیے "گولڈن ویزا" ریاستہائے متحدہ میں ہینلے اینڈ پارٹنرز کے کلائنٹس کے درمیان سب سے مقبول آپشن ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

انویسٹمنٹ امیگریشن کنسلٹنگ فرم ہینلے اینڈ پارٹنرز نے ایسے پروگراموں میں 500 فیصد اضافے کے ساتھ بیرون ملک رہائش کے حقوق یا اضافی شہریت حاصل کرنے کے طریقے تلاش کرنے والے امیر امریکیوں کی ریکارڈ تعداد کا انکشاف کیا ہے۔ بہت سے ممالک ایسے پروگرام پیش کرتے ہیں جو لوگوں کو ملک میں ایک مخصوص رقم لگا کر رہائش یا شہریت حاصل کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔

العربیہ بزنس کے جائزہ کے مطابق ہینلے اینڈ پارٹنرز نے بتایا کہ اسے امریکی شہریوں میں سے انویسٹمنٹ پروگراموں کے ذریعے رہائش اور شہریت کے لیے درخواست دہندگان کی تعداد کسی بھی دوسری قومیت کے مقابلے میں زیادہ موصول ہوئی ہے۔ ہینلے اینڈ پارٹنرز واحد امیگریشن کنسلٹنگ فرم نہیں ہے جس نے یہ معلوم کیا ہے کہ امیر امریکی رہائش یا دوسری شہریت کے لیے کوشاں ہیں۔ عالمی مالیاتی خدمات کی فرم چیس بکانن کے مالیاتی مشیر الیکس انگریم نے حال ہی میں فارچیون کو بتایا کہ کوویڈ 19 کی وبا کے بعد جیسے روسی امیر لوگ اشرافیہ اور جابرانہ حکومتوں سے بچنے کے خواہاں تھے ایسے ہی نام نہاد گولڈن ویزا اور پاسپورٹ حاصل کرنے کا رجحان اب امریکی شہریوں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔

ہینلے اینڈ پارٹنرز کی رپورٹ کے مطابق 2023 کے لیے سرفہرست ممالک میں یونان، اٹلی، مالٹا، پرتگال اور سپین شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ جزوی طور پر موسم اور ثقافتی کشش کی وجہ سے ہے۔ جزوی طور پر اس لیے کہ ان ممالک میں رہائش کی کوئی اقامہ یا کم سے کم ضروریات نہیں ہیں۔ یہ چیزیں ان امیر امریکیوں کے لیے پرکشش ہے جو ابھی تک ریاستہائے متحدہ چھوڑنا نہیں چاہتے لیکن ایک بیک اپ پلان چاہتے ہیں۔ .

اشرافیہ کو بیرون ملک جانے میں مدد کرنے والے ایک بین الاقوامی ٹیکس اور امیگریشن کنسلٹنٹ ڈیوڈ لیسپرینس نے بتایا کہ یہ "فائر انشورنس" کئی وجوہات کی بنا پر پرکشش ہے۔ اس کے زیادہ امریکی کلائنٹس امریکہ میں سیاسی ماحول کے بارے میں فکر مند ہیں اور دیگر بین الاقوامی کاروباری مواقع میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

بچوں اور ٹیکس کے مسائل کا سامنا

دوسرے لوگ منتقل ہونے کا ارادہ اس لیے بھی رکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کے لیے اس لیے فکر مند ہیں کہ انہیں بڑے پیمانے پر فائرنگ کے منفرد امریکی مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یا وہ خاص طور پر سلیکن ویلی کے کلائنٹس کے معاملے میں تشویش کا شکار ہیں اور اس مشکل سے بچنے کے لیے ایک جگہ چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ دوستانہ ٹیکس قانون والے ملک میں ہجرت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیسپرینس نے ایک "ارب پتیوں کے ٹیکس" کے امکان کی طرف بھی اشارہ کیا۔ صدر جو بائیڈن سمیت ڈیموکریٹس نے ایک خاص ترغیب کے طور پر اسے فروغ دیا ہے۔

ہینلے اینڈ پارٹنرز کے شمالی امریکہ کے سربراہ مہدی قدری نے کہا کہ ویزہ یا دوسری شہریت کے خواہشمند امیر امریکیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ امریکہ میں ممکنہ مسائل کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ میں رکاوٹوں کی کچھ مثالوں کے طور پر معیار زندگی کے جمود، بلند قرضوں کی سطح اور خطرناک طور پر پولرائزڈ معاشرے کا حوالہ دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس مشکل اور اداسی کے باوجود اب بھی بہت سارے غیر ملکی امیر لوگ امریکہ آنا چاہتے ہیں۔ امریکہ نے 2023 میں 2200 کروڑ پتی حاصل کیے ہیں۔ 2024 میں مزید آنے کی توقع کے ساتھ۔ سان فرانسسکو اور آسٹن دولت مند ٹیک ورکرز کے لیے سرفہرست ہیں۔ فلوریڈا بھی امیر غیر ملکیوں کے لیے ایک پرکشش جگہ ہے۔

بلاشبہ یہ اس لیے ہے کہ امریکہ اپنی تمام تر غلطیوں کے باوجود نجی دولت کی تخلیق اور جمع کرنے میں غیر متنازعہ لیڈر کے طور پر برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کے پاس دنیا کی سرمایہ کاری کے قابل نقد دولت کا 32 فیصد ہے۔ امریکہ دنیا کے 37 فیصد کروڑ پتیوں کا گھر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں