اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینی خواتین کے زیر جامہ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈال دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے غزہ کے مسلسل بمباری کی زد میں رہنے والے علاقوں سے نقل مکانی کر جانے والے فلسسطینیوں کے بچے کھچے مگر خالی پڑے گھروں میں رسائی کے بعد بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار کی بھی دھجیاں بکھیرنا شروع کر رکھی ہیں۔

نیم تباہ شدہ خالی گھروں یا خالی پڑے فلسطینیوں کے گھروں میں گھس کا اب اسرائیلی فوجی عرب دنیا کے اہم حصے فلسطین کی خواتین کی توہین کو اپنی جنگی تسکین کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی معاشرہ کے نمائندہ یہ اسرائیلی فوجی اور ان اسرائیلی فوجیوں کی تربیت کی انسانی اور اخلاقی تربیت کی کوئی سطح نہیں ہے۔ اسرائیل اپنی فوج سے یہ سب کچھ ایسے وقت پر کرا رہی جب اسرائیل اور امریکہ ایک بار پھر رفح پر حملے کے لیے باہم مشاورت کر رہے ہیں۔

فلسطین کی سرزمین مصر اور اردن دو اہم عرب مملکتوں سے متصل اور جڑی ہوئی ہے۔ اتفاق سے ان دونوں نے عرب ملکوں نے اسرائیل کو تسلیم کر کے ان کے ساتھ تعلقات کو نارملائز بھی کر رکھا ہے مگر یہ اسرائیلی کس حد تک ' ابنارمل ' ہیں اس کا اندازہ اس رپورٹ ہوتا ہے جو بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے اسرائیلی فوجیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کی گئی پوسٹس اور ویڈیوز کی مدد سے تیار کی ہے۔

اسرائیلی فوجی فلسطینیوں کے گھروں سے خواتین کے زیریں لباسوں کو فلسطینی عرب خواتین کی توہین کے لیے استعمال کر رہے ہیں، انہیں نمایاں کر کے ان کی ویڈیوز اور پوسٹیں بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے ہیں۔ نیز ان پوسٹوں اور ویڈیوز میں فلسطینی عرب خواتین کے زیریں لباس کو اپنے اخلاق اور انسانی اقدار سے عاری کھلواڑ کے لیے استعمال کر کے اس کا فخریہ اظہار کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں