توانائی منتقلی کی عالمی حکمت عملی ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے: آرامکو چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی کمپنی آرامکو کے سربراہ نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر قابل تجدید توانائی کی سپلائی کے سلسلے میں اب بھی حکمت عملی نا کام نظر آرہی ہے۔ عالمی سطح پریہ توانائی کے بہت معمولی حصے سے متعلق ہے، دنیا میں توانائی کی منتقلی کی زیرعمل حکمت عملی ایک گمراہ کن اور ناکام حکمت عملی ثابت ہوئی ہے۔ آرامکو چیف نے اس امر کا اظہار ہیوسٹن میں 'سیرا ویک کانفرنس ' میں خطاب کے دوران کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ' انرجی ٹرانزیشن کی یہ حکمت عملی زیادہ تر شعبوں میں واضح طور پر ناکام نظر آرہی ہے۔ 'کنسلٹنسی' کی خدمات پیش کرنے والے ادارے 'کے پی ایم جی ' کے مطابق گذشتہ سال جیواشم ایندھن کی کھپت دنیا بھر کی مجموعی توانائی کھپت کا 82 فیصد رہی ہے۔ توقع کی جاری ہے کہ اس سال تیل کی طلب میں ریکاڈ اضافہ ہو گا۔ اس لیے جو کچھ ہم پینٹ کرنے کی کوشش کر رہے شاید ہی اس کے قریب کی تصویر بنے۔'

امین ناصر نے کہا ' تازہ ترین اعدادو شمار اور رپورٹس سے اس چیز کو تقویت دیتی ہیں کہ تیل اور گیس کے عروج کے نیچے آنے کا کچھ وقت میں امکان نہیں ہے۔ انہوں نے درمیانی مدت کے ہدف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہمیں حقیقت پسندی کی طرف رہنا چاہیے۔

امین ناصر نے کہا ' جب می برادری ہائیڈروجن کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی طرف مائل ہونے کی بات کرتی ہے تو اس لیے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے عملی کوششوں کا بھی اہتمام کیا جانا چاہیے

ایگزون موبل کے سربراہ ڈیرون ووڈز نے بھی آرامکو چیف کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا ' ہم اس راستے پر نہیں ہیں کہ 2050 تک پہنچ کر کاربن کے صفر اخراج تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے اس رویے پر تنقید کی کہ لوگ کاربن کے اخراج کو تو کم دیکھنا چاہتے ہیں مگر اس پر اخراجات برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے '

آرامکو سربراہ نے مزید کہا' پچھلے سال ' سی او پی 28 ' کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا تھا متبادل توانائی کی طرف جانا ہے اور جواشیم ایندھن سے دور جانا ہے مگر اس کے لیے خوابوں کی دنیا میں نہ رہیں اس کے لیے مرحلہ وار پر نہیں بلکہ اس پر حقیقت پسندانہ بنیادوں پر سرمایہ کاری کرنے کی طرف آئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں