عالمی المیہ: 80 کروڑ لوگ بھوک کا شکار اور یومیہ ایک ارب افراد کی خوراک کا ضیاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دنیا بھر کے خاندانوں نے 2022 میں یومیہ ایک ارب کھانے کے پیکج پھینک دئیے۔ اس صورت حال کو اقوام متحدہ نے بدھ کے روز خوراک کے ضیاع کے حوالے سے "عالمی المیہ" قرار دے دیا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ فوڈ ویسٹ انڈیکس رپورٹ میں بتایا گیا کہ خاندانوں اور کمپنیوں نے ایک ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کا کھانا پھینک دیا جب کہ تقریباً 800 ملین افراد بھوک کا شکار ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 2022 میں ایک ارب ٹن سے زیادہ خوراک یا مارکیٹ میں دستیاب مصنوعات کا تقریباً پانچواں حصہ ضائع کر دیا گیا۔ خوراک کا زیادہ تر ضیاع خاندانوں کی طرف سے کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے کہا کہ خوراک کا ضیاع ایک عالمی المیہ ہے۔

ماحولیاتی ناکامی

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ خوراک کا یہ ضیاع نہ صرف اخلاقی ناکامی ہے بلکہ "ماحولیاتی ناکامی" بھی ہے۔ کھانے کا ضیاع سیارے کو گرم کرنے والے اخراج کو ایوی ایشن کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ پیدا کرتا ہے۔ وسیع علاقوں کو ان فصلوں کے لیے کھیتوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو کبھی نہیں کھائی جاتی ہیں۔

یہ رپورٹ غیر منافع بخش تنظیم WRAP کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے خوراک کے عالمی ضیاع پر تیار کی گئی یہ دوسری رپورٹ ہے اور اب تک کی سب سے مکمل تصویر فراہم کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیات پروگرام کے کلیمینٹائن او کونر نے وضاحت کی کہ جیسے جیسے ڈیٹا اکٹھا کرنا بہتر ہو رہا ہے مسئلہ کا صحیح پیمانہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ "ایک ارب کھانوں" کا اعداد و شمار ایک بہت ہی قدامت پسندانہ تخمینہ ہے اور حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ کھانے کے ضیاع کو روک کر آپ ان تمام لوگوں کو کھانا کھلا سکتے ہیں جو اس وقت دنیا میں بھوکے ہیں۔ یہ افراد تقریبا 800 ملین ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں