کنگ سعود یونیورسٹی میں 1800 بستروں کی گنجائش والا میڈیکل سٹی

کنگ سعود یونیورسٹی کے میڈیکل سٹی نے 2024 کے لیے بہترین سعودی ہسپتال کے دو ایوارڈز جیت لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کنگ سعود یونیورسٹی میں "یونیورسٹی میڈیکل سٹی" کی کل طبی صلاحیت 1800 بستروں تک پہنچ گئی۔ اس میڈیکل سٹی میں ہی 3 ہسپتال ہیں، کنگ خالد یونیورسٹی ہسپتال، کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی ہسپتال، اور یونیورسٹی ڈینٹل ہسپتال۔ ڈینٹل ہسپتال نے رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑے ڈینٹل ہسپتال کے طور پر ورلڈ ریکارڈ قائم کرکے گنیز بک میں اپنا نام درج کرایا ہے۔

کنگ سعود یونیورسٹی کی اس میڈیکل سٹی نے سال 2024 کے لیے بہترین سعودی ہسپتال کے لیے دو ایوارڈز بھی جیتے ہیں۔، "ایشیا ہیلتھ کیئر 2024" ایوارڈز کے اندر سہولیات اور عمارت کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے ’’ گرین ہسپتال ‘‘ اقدام پر ایوارڈ حاصل کیا۔ اس میڈیکل سٹی میں یونیورسٹی کے دو مراکز بھی موجود ہیں۔ یہ مراکز یونیورسٹی سنٹر فار آنکولوجی، اور سنٹر فار ہیلتھ سکلز اینڈ سمولیشن ہیں۔

اس میڈیکل سٹی میں 9 سینٹرز آف ایکسی لینس ہیں۔ ان میں کنگ فہد سینٹر فار کارڈیک میڈیسن اینڈ سرجری، یونیورسٹی فیملی میڈیسن سینٹر، یونیورسٹی ذیابیطس سینٹر، اینڈوسکوپک سرجری سینٹر، کنگ عبداللہ سپیشلسٹ سینٹر فار دی ایئر، سپورٹس میڈیسن سینٹر، پرنس نائف سینٹر فار ہیلتھ ریسرچ، یونیورسٹی سینٹر فار سلیپ میڈیسن اینڈ ریسرچ، اور سینٹر نیشنل سڈن ڈیتھ "حیات" شامل ہیں۔

شعبہ صحت میں تبدیلی پروگرام کے مقاصد

اسی تناظر میں سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ صحت کے شعبے کی تبدیلی کے پروگرام کا ایک ہدف نجی شعبے کی شراکت کو 50 فیصد تک بڑھانا ہے۔ اس وقت یہ 11 فیصد ہے۔ توقع ہے کہ اس سال تمام مراکز صحت وزارت صحت سے ہیلتھ ہولڈنگ کمپنی میں منتقل ہو جائیں گے۔

اوسط عمر بڑھانے کا ہدف

سعودی عرب اپنے شہریوں کی اوسط عمر 2030 میں 80 سال تک پہنچنے کے ہدف پر کام کر رہا ہے۔ اس کے لیے شہریوں کے لیے قومی بیمہ کا جلد آغاز کیا جائے گا۔

قومی بیمہ

سعودی وزیر صحت الجلاجیل نے کہا کہ ہر شہری کے پاس ایک نیٹ ورک ہوگا۔ یہ نیٹ ورک وہ گروپ ہے جسے ہولڈنگ کمپنی دوسرے مرحلے میں شروع کرے گی۔ یہ نیٹ ورک 2024 کے وسط میں شروع ہوگا۔ قومی بیمہ شروع کرنے میں تمام کمیونٹیز کی ہولڈنگ میں منتقلی کی تکمیل میں دو سال لگیں گے۔

صحت کی دیکھ بھال

صحت کی دیکھ بھال "وژن 2030" کے اہم شعبوں میں سے ایک ہے۔ سعودی عرب خاص طور پر دواسازی کی صنعت اور مختلف صحت کی خدمات کو ترقی دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ جون میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے دواسازی اور بائیو ٹیکنالوجی کمپنیوں کو انسولین، ویکسین اور پلازما علاج سمیت فارماسیوٹیکل مصنوعات کی ترقی میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کے لیے ایک نیا ادارہ قائم کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں