کیا آپ افطار اور سحری کے درمیان کافی مقدار میں پانی پیتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چونکہ رمضان کے مقدس مہینے میں روزے جاری رہتے ہیں، افطار اور سحری کے دوران روزہ دار کو فائدہ پہنچانے والے بہترین غذائی عناصر کی تلاش کے ساتھ ساتھ رمضان کی میزوں پر بہترین مشروبات کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

رمضان کا مہینہ ہو یا کوئی اور مہینہ ایک گلاس پانی جسم کے لیے صحت کا تاج بن سکتا ہے۔

ڈاکٹرز اور غذائیت کے ماہرین ہمیشہ رمضان کے دوران وافر مقدار میں پانی پینے کی تاکید کرتے ہیں، کیونکہ اس کے بہت سے فوائد ہیں جو کہ روزے کے طویل گھنٹوں تک ہوتے ہیں۔

’الخلیج‘ اخبار کی رپورٹ کے مطابق مصر کے نیشنل نیوٹریشن انسٹی ٹیوٹ میں غذائیت کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ہبہ سعید نے کہا کہ زیادہ تر لوگ عام طور پر پانی کو نظر انداز کرتے ہیں، چاہے رمضان ہو یا دوسرے مہینے ہوں۔ اس طرح اپنے جسم کو پانی کے حصول اور ضروری ہائیڈریشن سے محروم کر دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انسان دو طریقوں سے پانی حاصل کرتا ہے۔ کھانے پینے سے، چاہے تازہ ہو یا پکی ہوئی سبزیاں، سوپ کی پلیٹ اور کچھ مشروبات اور جوس، لیکن دوسری طرف جسم کو پسینے سمیت متعدد طریقوں سے پانی سے نجات مل جاتی ہے۔ سانس، آنسو، پیشاب کا اخراج۔ اس وجہ سے جسم میں داخل ہونے والے پانی کی مقدار اس سے نکلنے والی مقدار کے برابر ہونی چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک عام آدمی کے جسم کو اس مساوات کے مطابق روزانہ 10 گلاس خالص پانی کی ضرورت ہوتی ہے،تاہم اگر کوئی شخص گردے یا اسہال جیسی کسی بیماری میں مبتلا ہو تو اس کا تعین ڈاکٹر مریض کی حالت کو دیکھ کر ہی کرتا ہے۔

ڈاکٹر ھبہ نے واضح کیا کہ روزے کا دورانیہ جو کہ تقریباً 14 گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران جسم پانی سے خالی ہوجاتا ہے، لیکن پانی کا اصل مسئلہ افطار کے وقت شروع ہوتا ہے، کیونکہ کچھ روزہ دار بہت سی ایسی غذائیں کھاتے ہیں جن میں نمکیات ہوتے ہیں اور وہ پانی پینے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ اس کے بعد وہ بہت زیادہ کھاتے ہیں۔ ایسے مشروبات پینا جن میں شوگر ہوتی ہے جو جسم کو ہائیڈریشن کے حصول کے لیے درکار خالص پانی سے محروم کر دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مطلوبہ ہائیڈریشن حاصل کرنے کے لیے خالص پانی پینے اور دیگر مشروبات پینے کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت ہے۔آپ جتنا کم پانی پیتے ہیں اتنا ہی کم ہائیڈریشن حاصل کرتے ہیں اور اس کے برعکس اس لیے بہتر ہے کہ دوسرے مشروبات کے بجائے پانی پیا جائے۔

ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ افطاری میں شکر کے زیادہ استعمال سے گریز کیا جائے، کیونکہ روزہ دار کے لیے آدھا کپ تازہ جوس، دہی یا کھٹا دودھ پینا کافی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک کپ پانی بھی پینا چاہیے۔

اس نے افطار اور سحری کے درمیان ہر گھنٹے میں ایک گلاس پانی پیتے رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں