منشیات نے چوری پر مجبور کیا، زندگی تباہ کردی تھی: نشہ سے بحال شہری کی گفتگو

مطالعہ کے مراحل نشے میں پڑنے کی وجہ ہو سکتے ہیں: سابق نشئی کا العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

نشہ کی لت میں پڑے رہنے والے ایک شہری نے بحال ہونے کے بعد العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دئیے گئے انٹرویو میں اپنے حالات سے آگاہ کیا ہے۔ نشے سے بحال ہونے والے شہری نے کہا منشیات نے مجھے تباہ کر دیا، اور میری زندگی کی ہر خوبصورت چیز کو تباہ کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ نشے نے مجھے پاگل پن، نفسیاتی شکوک و شبہات، سمعی و بصری فریب اور خاندانی مسائل کا شکار کردیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں صحت یاب ہونے والے شہری نے اپنی حالیہ بحالی کی کہانی کا انکشاف کیا۔ اس نے کہا بُرے دوستوں کے علاوہ کیوروسٹی نے ہی اسے منشیات کے استعمال کی جانب بڑھنے کی دعوت دی۔ اس نے بتایا کہ نشہ چھوڑنے کے لیے اس کا ریاض شہر کے ارادہ میڈیکل کمپلیکس میں ضروری علاج کیا گیا۔ جب تک وہ مکمل جسمانی اور ذہنی صحت کی طرف لوٹ نہیں گیا اسے وہیں زیر علاج رکھا گیا۔

صحت یاب ہونے والے شخص، جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کو ترجیح دی، نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا کہ اپنی پڑھائی کے آغاز میں جب میں یہ سمجھے بغیر کہ مجھے برے ساتھیوں سے گریز کرنا چاہیے تھا متعدد دوستیاں تلاش کر رہا تھا تو میری ملاقات چند برے دوستوں سے ہوگئی۔ وہ ہی تھے جنہوں نے مجھے نشے کے جال میں پھنسایا۔ تجسس اور خوشی اور نشاط کی تلاش میں مختلف قسم کی دوائیں آزمانے کی خواہش کا نتیجہ تھا کہ میں نشے کے جال میں پھنس گیا۔ پھر میں اپنی صحت اور عقل بھی کھو بیٹھا۔

اس نے مزید کہا کہ جب میں نقصان دہ نشے کے مرحلے پر پہنچا تو میں نے کئی سالوں سے چرس، حشیش اور الکحل والے مشروبات کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ اس وقت میں اپنے خاندان کے ساتھ کئی مسائل کا شکار رہا یہاں تک کہ حالات خراب ہو گئے۔ میں چوری کرتا رہا اور گھر والوں سے جھوٹ بولتا رہا۔ پھر میں نے اپنے اوپر سے گھر والوں کا اعتماد بھی کھو دیا۔ اس بدسلوکی نے مجھے، میرے خاندان کو اور مجھے سے پیار کرنے والے ہر شخص کو پریشان کردیا۔ نشہ کی لت نے مجھے تقریباً پاگل بنا دیا تھا۔ جب بھی میں اپنی پچھلی زندگی کو یاد کرتا ہوں تو مجھے اپنے تمام اعمال پر بہت غصہ آتا ہے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ میری زندگی زیادتیوں سے بھری پڑی ہے۔

منشیات کے استعمال کے اثرات

اس نے مزید کہا کہ منشیات نے مجھے نفسیاتی شکوک و شبہات میں ڈال دیا۔ میں سمعی اور بصری فریب کا شکار ہوگیا۔ میں غیر حقیقی گفتگو اور آوازیں سن رہا تھا۔ میں خیالی تصورات بھی دیکھتا تھا۔ یہاں تک کہ مجھے خودکشی کا خیال بھی آتا رہا۔ پھر میں نشے سے بحالی کے مرکز ارادہ کمپلیکس جانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں شدت سے ایسے علاج کی تلاش کر رہا ہوں جو مجھے بچا لے کیونکہ میری زندگی منشیات کی وجہ سے بے قابو ہو چکی ہے۔

نشے کا علاج

اس نے وضاحت کی کہ ریاض شہر میں ارادہ کمپلیکس جانا میری زندگی کا بہترین فیصلہ تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو انہوں نے مجھے 19 دن تک مریضوں کے وارڈ میں داخل کیا۔ اس کے بعد میں نے دوائیں لینا شروع کر دیں تاکہ بدسلوکی کے نتیجے میں نکلنے والی علامات کو کم کرنے میں مدد ملے۔ کمپلیکس کے ماہرین نے سونے اور کھانے کے وقت کے حوالے سے میرے لیے ایک خصوصی شیڈول تیار کیا۔ صحت یابی کے مشیر کے علاوہ کنسلٹنٹس، ماہرین نفسیات اور سماجی کارکنوں کے ایک مربوط طبی عملے کے ذریعے میں نے علاج کے منصوبے پر عمل پیرا ہونا شروع کیا۔

علاج کا منصوبہ

صحت یاب ہونے والے شخص نے منشیات کے خلاف جنگ سے متعلق ایک خصوصی سیریز شائع کرنے کے ایک حصے کے طور پر العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بار جب میں نے علاج کے منصوبے کا عزم کیا تو میری صحت اچھی ہوگئی۔ گولیاں میری زندگی واپس ویسی ہی ہوگئٍ جیسا میں پہلے تھا۔ اپنی بات چیت کا اختتام اس نے یہ کہ کیا کہ علاج اور علاج کے منصوبے پر عمل ہی واحد لائف لائن ہے۔

منشیات لینے والوں کی تعداد 53 ملین

نفسیاتی اور نشے کی ادویات کے ایک مشیر ڈاکٹر حسن خبرانی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ سعودی عرب میں نشے کے زیادہ تر مریض کمزور محرک اور تباہ کن حد تک نشے کے استعمال کی خواہش کی بنا پر علاج نہیں کراتے۔ انہوں نے بتایا کہ منشیات کی سب سے زیادہ پھیلی ہوئی قسم بھنگ اور کیپٹاگون گولیوں کا استعمال ہے۔ گزشتہ سال کے دوران عالمی سطح پر 53 ملین افراد نے غیر قانونی منشیات کا استعمال کیا یا نسخے کی دوائیوں کا غلط استعمال کیا ہے۔

نشے کی علامات

حسن خبرانی نے بتایا کہ کچھ ایسی نشانیاں ہیں جو عادی شخص کی شناخت میں مدد کرتی ہیں۔ ان علامات میں معاملات میں جارحیت، دوستوں میں تبدیلی، تنہائی اور سماجی انخلا، تعلیمی کامیابی میں کمزوری نمایاں ہیں۔ کاہلی اور سکول کےکام سے غیر حاضری، پیسے کی حد سے زیادہ طلب، لوگوں سے تعلقات میں دوغلا پن اور تشدد بھی نشے کی علامات ہوسکتی ہیں۔

ڈاکٹر حسن نے انکشاف کیا کہ نشے کا علاج کرنا کسی دائمی بیماری کے علاج کی طرح ہے۔ زیادہ تر مریضوں کو 9 ماہ یا اس سے زیادہ سنگین صورتوں میں طویل مدتی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں