العربیہ ایکسکلوسیو

سعودی عرب اور دبئی کے درمیان طویل فاصلے کو 'ہائپر لوپ' نے صرف 60 منٹ میں سکیڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

'ہائیپر لوپ' کے ذریعے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے کئی بڑے شہروں کے درمیان تیز رفتار رابطے آسان تر ہو گئے اور فاصلے سمٹ کر رہ جانے کی امید پیدا ہو گئی۔ طویل تر سمجھے جانے والے فاصلے بھی محض ایک گھنٹے کے اندر تک طے کرنا ممکن ہو گیا۔ یہ بات دنیا کے سب سے بڑے ٹرانسپورٹ سسٹم کے سربراہ اینڈریس ڈی لیون نے 'العربیہ' سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔

'ہائیپر لوپ' اگلی نسل کے لیے متعارف کرائی گئی ٹیکنالوجی ہے۔ اس کا ہدف بڑے شہروں کو ریکارڈ کم وقت میں باہم جوڑ دینا ہے، ایسی ٹرانسپورٹ کے ساتھ جو ایک گھنٹے میں ایک ہزار کلومیٹر کی رفتار سے فاصلوں کو طے کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہے۔

'ہائیپر لوپ' کے سربراہ وہ کہانی سناتے ہیں جو خلیجی ملکوں کے درمیان رو بعمل ہونے جا رہی ہے۔ فاصلوں کو پاٹ دینے کا یہ سلسلہ سعودی عرب اور امارات کے شہروں کے درمیان بھی ممکن بنایا جا رہا ہے۔

یہ کامیابی پہلے مرحلے پر اطالوی حکومت اور نجی سرمایہ کاروں کے درمیان مشترکہ منصوبے کے ذریعے ممکن ہوئی۔ وینس اور پڈوا کے درمیان فاصلے کو سمیٹ کر رکھ دیا۔ پھرایک 'ہائپر لوپ پروٹو ٹائپ' لانے کے فیصلے نے اس منصوبے میں دوبارہ دلچسپی پیدا کر دی۔

یہ ایک ایسا نظام ہے جو ریل نیٹ کے مقابلے میں دگنی رفتار سے چلتا ہے اور ریل نیٹ سے کہیں پائیدار اور آرام دہ بھی ہے۔ ڈی لیون کہتے ہیں یہ سب 2028 اور 2030 کے درمیان ایسا تیز رفتار رابطے ممکن ہو جائیں گے۔

اینڈریس ڈی لیون 'ہائپر لوپ' کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑے پیمانے پر نقل و حمل کے نظام کو لانے کے لیے ممالک - بشمول امارات اور سعودی عرب کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے۔ اطالوی حکومت اور متحدہ عرب امارات کی نجی کمپنیوں کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ تاکہ ٹرانسپورٹ کا وہ نظام لایا جائے جس کا مقصد دنیا کا پہلا کام کرنے والا مسافروں کا نظام ہے اور لوگوں کو شہروں کے درمیان تیز رفتار ریل نیٹ ورکس کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ تیز رفتار اور اس سے کہیں زیادہ پائیدار طریقے سے آگے بڑھانا ہے۔

'ہائیپر لوپ ' کی ٹیکنالوجی ابھی دنیا میں ابتدائی سطح پر ہے۔ مگر اسے خلیجی خطے کے وسیع و عریض شہری علاقوں کے لیے امکانی ٹرانسپورٹ نظام کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔

اسے ویکیوم ٹیوب سسٹم بھی کہا جا سکتا ہے۔ جس کے ذریعے انتہائی تیز رفتاری ممکن ہو جائے گی۔ 'ہائیپر لوپ' نے اپنے ٹرانسپورٹ کے نظام کے لیے وہ کچھ ممکن بنا لیا ہے جو ریل نیٹ کے ذریعے ابھی ناممکن تھا۔ 'ہائپر لوپ نیٹ ورکس' کو بجلی اور شمسی توانائی سے چلنے کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے، جو پائیدار نقل وحمل کا ذریعہ ہیں۔ ڈی لیون کہتے ہیں 'ہم نے امارات میں کچھ نئی بات چیت شروع کی ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے پاس ابھی کچھ زیادہ بتانے کے لیے نہیں ہے۔ مگر ہمارا ویژن بڑا واضح ہے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں اصل موقع کیا ہے تو وہ سیاحت کا اہم ترین مرکز ہے۔ جیسا کہ سعودی عرب میں وہ اس مقصد کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں، اسی طرح دبئی میں سب کچھ ممکن بنا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ خلیجی ملکوں کے درمیان ہر طرح کی سہولت ممکن ہو جائے۔

آپ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امارات سے رابطہ صرف ایک گھنٹے میں طے ہو جائے تو یہ ممکن ہو جائے گا، اس سلسلے میں سعودی عرب کے درمیان پہلے سے ہی روابط چلے آ رہے ہیں۔

سعودی عرب نے 2020 میں اعلان کر دیا تھا کہ وہ وہ اپنی نوعیت کا پہلا 'ہائیپر لوپ' کی سٹڈی کا جائزہ لیں تو یہ کارگو اور مسافروں دونوں کے لیے ہو چکا ہے۔ اس کے مالی فوائد غیر معمولی ہیں۔

دو سال پہلے 'العربیہ' سے سعودی وزیر توانائی خالد الفالح نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی عرب 'ہائیپر لوپ' کے ذریعے شراکت داری کرنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے اس ٹیکنالوجی کو محدود پیمانے پر آزمایا جا چکا ہے اور لمبے فاصلے کو طے کرنے کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔ یہ تجربہ کامیاب ہو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں