مصر میں تاریخی مسجد کے مؤذن اذان کے لیے کھڑے ہوئے اور جان دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری بحیرہ گورنری کے شہر دمنہور میں واقع تاریخی الحبشی مسجد کے مشہور و معروف موذن انکل طہ صنیدق نے قابل رشک حالت میں جان دے دی۔

طہ صنیدق آثار قدیمہ کی تاریخی الحبشی مسجد کے مؤذن کے طور پر فجر کی اذان کے لیے کھڑے ہوئے اور فوت ہو گئے۔ انہوں نے نمازیوں کو اعلان کیا کہ سحری کا وقت ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ پانی چھوڑ دو اور روزے کی نیت کرلو‘‘ اور خاموشی چھا گئی۔ طحہ صنیدق بے ہوش ہوگئے۔ نمازیوں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔

چچا طہ صنیدق کے اہل خانہ اور شناسا افراد نے فجر کی اذان کے دوران مسجد میں ان کی موت کو ایک اچھے انجام کی علامت قرار دیا۔ ان کی موت کا اعلان کیا گیا تو دامنہور شہر کی فضا سوگوار ہوگئی۔

الحبشی مسجد کے امام شیخ رمضان عبدالحفیظ نے چچا طہ کی موت پر اظہار افسوس کیا اور بتایا کہ چچا طہ صندیق 50 سال سے تاریخی الحبشی مسجد کے موذن تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سحری کا وقت ختم ہوگیا اور جان دے دی۔ اس سے قبل ان کے بڑے بھائی چچا اسماعیل بھی اسی مسجد میں جمعہ کی نماز کے لیے مسجد کی صفائی کرتے اور نماز کی تیاری کے کام کرنے کے دوران چل بسے تھے۔ الحبشی مسجد کے امام نے مزید کہا کہ چچا طہ صندیق کی نماز جنازہ دوپہر کو الحبشی مسجد میں ہی ادا کردی گئی۔

قدیم تاریخی مسجد

بحیرہ گورنریٹ کے شہر دمنہور میں واقع الحبشی مسجد کو شہر کے وسط میں واقع ایک تاریخی مسجد سمجھا جاتا ہے۔ اس مسجد کا ڈیزائن مملوک انداز میں بنایا گیا تھا۔ اس مسجد کا سنگ بنیاد شاہ فواد اول نے 1920 میں رکھا تھا۔ وزارت نوادرات نے 2017 میں دمنہور کی الحبشی مسجد کو اس کی قدیم تاریخ کی وجہ سے ایک قدیم مسجد کے طور پر منظور کیا تھا۔

الحبشی مسجد اپنی مختلف آثار قدیمہ اور تعمیراتی اہمیت کی وجہ سے دمنہور شہر اور پوری بحیرہ گورنری کی مختلف مساجد میں خاص اہمیت کی حامل ہے۔ الحبشی مسجد کی رونق ماہ مبارک رمضان کی آمد کے ساتھ بڑھ جاتی ہے۔ مقدس مہینے کے دوران سینکڑوں شہری مسجد میں نماز تراویح ادا کرنے کے لیے آتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں