ایک اسرائیلی یرغمالی سات اکتوبر کو ہی اسرائیلی گن شپ ہیلی کاپٹر نے مار دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج کی تحقیقات پر مبنی ایک اور رپورٹ جمعہ کے روز منظر عام پر لائی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مرنے والے یرغمالیوں میں سے ایک کی موت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ رپورٹ پورے چھ ماہ کے بعد سامنے آنے والی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ایفرات کاٹز نامی یہ اسرائیلی یرغمالی جنگ کے پہلے ہی روز اسرائیلی ہیلی کاپٹر کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گیا تھا۔

اسرائیلی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی گن شپ کی فائرنگ سے مرنے والا یہ اسرائیلی یرغمالی غزہ کے ارد گرد آباد کی گئی یہودی کمیونیٹیز سے تعلق رکھتا تھا اور حماس کے لوگوں نے اسے اسرائیل پر سات اکتوبر کے اپنے حملے میں کیبٹز نیر سے اٹھایا تھا۔ کے اسے راستے غزہ میں قید کرنے کے لیے لے جاتے ہوئے راستے میں ہی اسرائیلی فوج نے مار دیا۔

اس بارے میں شروع سے ہی کئی فوٹیجز اور تصاویر کی وجہ سے اسرائیلی عوام میں شور مچا تھا۔ مگر اسرائیلی فوج نے عینی شاہدوں کی موجودگی کے باوجود تحقیقات میں چھ ماہ لیے اور چھ ماہ کے اواخر میں تحقیقات منظر عام پر لائی گئی ہیں۔ ایفرات کاٹز بھی 250 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے ایک تھا جن کے بارے میں شروع دن سے کہا جارہا ہے کہ انہیں حماس نے غزہ میں قید کر رکھا ہے۔ انہیں اسرائیلی فوج اپنے تمام تر جنگی حربوں کے باوجود ابھی تک چھڑا نہیں سکی ہے۔ البتہ کئی یرغمالی اسرائیلی فوجی پالیسی کی وجہ سے ہلاک ضرور ہوچکے ہیں۔ اور اسرائیلی فوج کے ہاتھوں یا اسی کی پالیسی کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

فوجی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ' ایفرات کاٹز نامی یرغمالی کو ایک گاڑی میں بٹھا کر حماس والے لے جا رہے تھے کہ اسرائیلی فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹر نے اس گاڑی کو نشانہ بنا دیا۔ اس گاڑی میں یرغمالی بھی سوار تھے اس لیے یرغمالی بھی ہلاک ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ گن شپ ہیلی سے فائرنگ کی وجہ سے گاڑی کو آگ لگ گئی تھی، جو موت کا سبب بن گئی۔

تحقیقتی رپورٹ میں فوج نے تسلیم کیا ہے کہ 'اس کے نگرانی کے موجودہ نظام کی مدد سے یرغمالیوں کو پہچنا نہیں جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ اس میں اسرائیلی ائیر فورس کے کمانڈر کو ہیلی کاپٹر کے عملے کی کوئی غلطی نہیں ملی ہے۔ جنگ کی مشکل اور پیچیدہ صورت حال میں فوجی عملے نے اپنی ذمہ داری نبھائی تھی۔ جس سے ایک یرغمالی بھی مارا گیا۔'

واضح رہے اب تک کئی یرغمالی اسرائیلی فوج کی فائرنگ یا بمباری سے مارے جا چکے ہیں۔ حناس کے مطابق اب تک 30 یرغمالی مختلف وجوہات کی بنیاد پر قید کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔

ادھر اسرائیل میں یرغمالیوں کے اہل خانہ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں اور یرغمالیوں کے بارے حکومت کی حکمت عملی کو تنقید کا نشہ بنا رہے ہیں۔ یرغمالیوں کے اہل خانہ کے علاوہ عام اسرائیلی بھی سمجھتے ہیں کہ نیتن یاہو کی حکومت کے ہوتے ہوئے یرغمالیوں کی رہائی ممکن نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں