اسرائیلی فوجی حکمت عملی غزہ میں غلطیوں کو دہرانے کی اجازت دیتی ہے: گوتریس

العربیہ سے گفتگو میں سیکرٹری جنرل یو این کی زندگی یا موت کے فیصلوں کو الگورتھم کے حساب سے جوڑنے پر شدید تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جمعہ کے روز العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار کے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی حکمت عملی اور طریقہ کار غزہ میں غلطیوں کو دہرانے کی اجازت دیتا ہے۔

گوتریس نے کہا کہ آج اسرائیل نے دو نچلے درجے کے افسران کو برطرف کر دیا اور گلوبل سینٹرل کچن آرگنائزیشن پر بمباری کے معاملے میں کچھ سینئر رہنماؤں کو سرزنش کی، لیکن کیا یہ کافی ہے؟ معاملہ صرف ان غلطیوں کے اعتراف کرنے کا نہیں ہے جو حکومت کر رہی ہے بلکہ اس نظام کی ہے جو ان غلطیوں کو بار بار ہونے دیتا ہے۔ لہذا نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اصل چیز غزہ میں فوج کی طرف سے استعمال کی جانے والی حکمت عملی اور طریقہ کار میں تبدیلی ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ کی پٹی میں 7 امدادی کارکنوں کو اس وقت مار دیا تھا جب وہ حماس کے رکن کو نشانہ بنا رہی تھی۔ صہیونی فوج نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے ہی قوانین کی کئی سنگین غلطیوں اور خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ حملے کی روشنی میں فائر سپورٹ بٹالین کے کمانڈر کو میجر کے عہدے اور بٹالین کے چیف آف سٹاف کو کرنل کے عہدے سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جمعہ کے روز گوتریس نے ان معلومات کے بارے میں "گہری تشویش" کا اظہار کیا کہ اسرائیلی فوج دوران جنگ اہداف کا تعین کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے زندگی یا موت کے فیصلوں کو الگورتھم کے حساب سے جوڑنے کے اس عمل کو یکسر مسترد کردیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ زندگی اور موت کے اہم فیصلوں کو سرد خون والے الگورتھمک حسابات کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔

گوتریس نے غزہ کی امداد میں "کوانٹم لیپ" کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے عارضی طور پر امداد کی ترسیل کی اجازت دینے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا غزہ کے لیے پراگندہ اقدامات کافی نہیں ہیں بلکہ ایک پیراڈائم شفٹ کی ضرورت ہے۔ جس چیز کی ضرورت ہے وہ زمین پر ایک بامعنی تبدیلی لانا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے بیلجیم میں یورپی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ ایک تقریر میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے شمالی غزہ میں ترسیل کی اجازت کا ثبوت نتائج میں مضمر ہے۔ یہ نتائج ہم آنے والے دنوں اور ہفتوں کے دوران دیکھیں گے۔ ہم غزہ میں ممکنہ قحط کے حوالے سے دیکھیں گے کہ آیا یہ خطرات کم ہو رہے ہیں یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں