اسرائیلی فوج اے آئی سسٹم "لیوینڈر" اور ’’ احمق بم‘‘ استعمال کرنے لگی

سسٹم ایک مسلح شخص کے ساتھ 15 سے 20 اور ہر لیڈر کے ساتھ 100 شہریوں کو مارنے کی اجازت دے رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیل کی جانب سے غزہ کے خلاف جنگ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں رپورٹس نے بین الاقوامی غم و غصے کو جنم دیا اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس معلومات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال اچھے مقاصد کے لیے کیا جانا چاہیے۔ زندگی اور موت کے فیصلے الگورتھمز کے ذریعے کیے گئے حسابات سے منسلک نہیں ہونے چاہیں۔

اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع نے برطانوی اخبار گارڈین کو انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے غزہ کی جنگ میں "لیوینڈر" سسٹم کا استعمال کیا۔ ان ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس سسٹم نے اسرائیلیوں کو فلسطینی جنگجوؤں کا تعاقب کرتے ہوئے عام شہریوں کو قتل کرنے کی اجازت دی۔

37 ہزار ممکنہ اہداف کی نشاندہی

انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا اسرائیلی افواج نے اپنی جنگ میں مصنوعی ذہانت سے مدد لینے والا ڈیٹا بیس کا استعمال کیا جس نے 37,000 ممکنہ فلسطینی اہداف کی نشاندہی کی۔ اس نے تلاش کے معیار کو کنٹرول کرنے والے مخصوص الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے ایسے افراد کا ڈیٹا بیس بنا کر کام کیا۔ مصنوعی ذہانت کے اس نظام کو "لیوینڈر" کہا جاتا ہے اور اسے اسرائیل کے ایلیٹ انٹیلی جنس یونٹ 8200 نے تیار کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک بیان میں "لیوینڈر" سسٹم کو ایک ڈیٹا بیس کے طور پر بیان کیا گیا جو دہشت گردوں کی کارروائیوں کے بارے میں متعدد سطحوں سے معلومات تیار کرنے کے لیے مختلف انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سسٹم جنگجوؤں کے ناموں کی ایسی تصدیق شدہ فہرست فراہم نہیں کرتا کہ ان کو ہدف بنا لیا جائے۔

اخبار کے مطابق چھ انٹیلی جنس افسران نے صحافی یوول ابراہم کو گواہی دی کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جنگ میں مصنوعی ذہانت کے نظام کا استعمال ایک مبہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ اس میں بدترین بمباری میں دسیوں ہزاروں فلسطینیوں کو ہلاک اور زخمی کیا جا چکا ہے۔ اتنے خوفناک اعداد و شمار نے فوجی اہلکاروں اور مشینوں کے درمیان تعلقات کے متعلق بہت سے قانونی اور اخلاقی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔

لیوینڈر سسٹم کے کام کرنے کا طریقہ

ایک اسرائیلی افسر جس نے "لیوینڈر" سسٹم کا استعمال کیا ہے بتایا کہ اسے غمزدہ ہوجانے والے سپاہی کے مقابلے میں خودکار اعدادوشمار پر زیادہ اعتماد ہے۔ مشین سرد مہری سے حکم دیتی ہے اور اس سے کام آسان ہوگیا ہے۔ چھ افسران کے مطابق "لیوینڈر" میں مصنوعی ذہانت کے ذریعہ تقریباً 37 ہزار ایسے فلسطینیوں کو فہرست میں شامل کیا جو حماس یا جہاد کی تحریکوں سے وابستہ تھے۔

یاد رہے جنگ میں مصنوعی ذہانت کے نظام کے استعمال کے بارے میں اس معلومات کی اسرائیلی فوج کی طرف سے تردید کی گئی تھی۔ اسرائیلی فوج نے کہا تھا وہ مشتبہ اہداف کی شناخت کے لیے کوئی نظام استعمال نہیں کرتی۔

احمق بموں کا استعمال

یہ حملے نام نہاد "احمق بم" کا استعمال کرتے ہوئے کئے گئے جو بغیر رہنمائی کے بم ہیں جو گھر میں موجود ایک شخص کے ساتھ ہر ایک کو مکمل طور پر اڑا دیتے ہیں۔ ایک انٹیلی جنس ذریعہ نے کہا کہ ہم کسی غیر اہم جنگجو کے خلاف سمارٹ بم استعمال نہیں کریں گے۔ کیونکہ یہ بم بہت مہنگے ہیں اور ہمارے پاس ان کی کمی ہے۔

عسکری ماہرین کے مطابق اسرائیل مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہزاروں فلسطینیوں کے گھروں کو برابر کرنے کے لیے احمق بموں کا استعمال کر رہا ہے۔ اس سے جنگ کی ہلاکتوں کی زیادہ تعداد کی وجہ بھی معلوم ہوجاتی ہے۔

ایک جنگجو کے ساتھ 15 یا 20 شہری قتل

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگجوؤں کو نشانہ بنانے والے فضائی حملے کے دوران اسرائیلی فوجی کو 15 یا 20 عام شہریوں یا ہر کمانڈر کے ساتھ 100 شہریوں کو مارنے کی اجازت دی گئی تھی۔ "احمق بم" گرائے گئے جس سے پورے گھر تباہ ہو گئے اور ان کے تمام مکین مارے گئے۔ 183 دنوں کی اپنی بربریت میں اسرائیل نے 33137 فلسطینیوں کو شہید اور 75 ہزار سے زیادہ کو زخمی کردیا ہے۔

"گوسپل" پروگرام

گارڈین اخبار نے پہلے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی فوج ’’گوسپل‘‘ نامی ایک مصنوعی ذہانت کا پروگرام استعمال کرتی ہے۔ اسے غزہ کی پٹی میں بمباری کے لیے اہداف کو منتخب کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ڈیٹا میں مسلح گروپ اور ان کے رہنما شامل ہیں۔

اخبار نے اطلاع دی ہے کہ ایک خفیہ ملٹری انٹیلی جنس یونٹ جو مصنوعی ذہانت سے چلایا جاتا ہے حماس کے حملوں پر اسرائیل کے ردعمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسرائیل حماس کے ساتھ اپنی جنگ میں بہت سے طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظام کا استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیل جدید جنگ کے ایک نئے باب میں داخل ہو رہا ہے۔ ان نظاموں کے استعمال کی قانونی حیثیت اور اخلاقیات کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ فوجی اہلکاروں اور مشینوں کے درمیان تعلقات کی تبدیلی کے بارے میں بھی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے اس سے قبل اسرائیلی انٹیلی جنس اور فوجی افسران کے حوالے سے کہا تھا کہ اسرائیلی فورسز چہرے کی شناخت پروگرام کا استعمال کر رہی ہیں۔ یہ پروگرام فلسطینیوں کے چہروں کی تصاویر جمع اور انڈیکس کرسکتا ہے۔ اس سے صرف چند سیکنڈوں میں لوگوں کے ناموں کی شناخت کی جا سکتی ہے۔

اخبار کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ سال کے آخر سے بغیر کسی اعلان کے اس پروگرام کو استعمال کرنا شروع کیا تاکہ فلسطینی آبادی کے علم یا رضامندی کے بغیر تصاویر جمع اور محفوظ کی جائیں۔ ایک اسرائیلی افسر نے اخبار کو بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی بعض اوقات غلط طور پر شہریوں کو حماس کے مطلوب جنگجو کے طور پر شناخت کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں