یہودی بستیوں کی مصنوعات، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک نیا بحران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

غزہ میں اسرائیل کی بربریت میں 33137 فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا۔ عام شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات بڑھ گئے ہیں۔ اسی تناظر میں اب اسرائیل کے اندر ایک خوف پیدا ہورہا ہے کہ اگر امریکہ نے درآمد شدہ سامان پر اسرائیل سے نہیں بلکہ مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں سے آنے کا لیبل لگا دیا تو اسے اربوں میں نئے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس جنگ کے باعث پہلے ہی اسرائیل کی معیشت کو بڑا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

جنگ کے دوران اسرائیلی طرز عمل پر بہت سے امریکیوں کے غصے کی روشنی میں توقع کی جارہی ہے کہ امریکی یہودی بستیوں میں تیار کی گئی مصنوعات کو خریدنے سے گریز کریں گے۔ دو سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن جس نے سالوں سے یہودی بستیوں کی مصنوعات پر ان بستیوں کا ٹیگ لگانے سے انکار کیا ہے اب وہ کیوں یہ ٹیگ لگا سکتا ہے۔ یاد رہے یورپی یونین یہودی بستیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات پر یہودی بستیوں کا ٹیگ لگانے کی منظوری دے چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسا امریکی اقدام تل ابیب کے ساتھ اسلحے کے ایک بڑے معاہدے کو ختم کرنے کے بارے میں واشنگٹن کے مطالعے سے مماثلت رکھتا ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر یہودی بستیوں کی مصنوعات کے معاملے کے اثرات کے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

سموٹریچ کو جواب

اسرائیلی اخبار "یدیوت احرونوت" کے مطابق جمعہ کو شائع ایک خبر میں امریکی میڈیا رپورٹس نے تصدیق کی ہے کہ یہودی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کو متعارف کرانے کا واشنگٹن کا منصوبہ اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹریچ کے اس اعلان کا ردعمل ہے جب امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے دورہ اسرائیل کے دوران انہوں نے زمینوں کو قومیانے کا اعلان کیا تھا۔

22 مارچ کو سموٹریچ نے وادی اردن کے علاقے میں 8000 دونم زمین کو سرکاری زمین کے طور پر ضبط کرنے کی منظوری دی۔ اسرائیلی چینل 7 نے اس وقت اطلاع دی تھی کہ اس زمین کو صنعت اور تجارت کے منصوبوں کے علاوہ موشاف یافیت کے علاقے میں سینکڑوں رہائشی یونٹس بنانے کے لیے مختص کیا گیا تھا۔

واشنگٹن نے اس معاملے کو مسترد کردیا ۔ امریکا نے سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے قرار داد کو پہلی مرتبہ ویٹو کرنے سے گریز کیا۔ اس سے قبل امریکہ تین مرتبہ جنگ بندی کی قرار داد کو ویٹو کردیا تھا۔ امریکہ کے اس اقدام پر اسرائیل نے ناراضی کا اظہار کیا۔

تاہم اس حوالے سے سیٹلمنٹ پراڈکٹس متعارف کرانے کا باضابطہ فیصلہ کرنے کی تاریخ ابھی تک معلوم نہیں ہے۔ غزہ جنگ کے باعث دونوں ملکوں کے تعلقات کے درمیان گہری ہوتی دراڑ کی وجہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کے حملوں میں اضافہ بھی ہے۔

2019 میں یوروپی یونین نے ایسے ضوابط کی منظوری دی جس میں مغربی کنارے کی غیر قانونی یہودی بستیوں کی مصنوعات کو "مقبوضہ علاقوں" میں پیدا ہونے والے کا لیبل لگانا ضروری ہے۔ اس عمل سے ان کو اسرائیل کی مصنوعات کے طور پر شمار کرنے سے انکار کیا جاتا ہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2020 میں بستیوں کی مصنوعات کی درجہ بندی اسرائیلی مصنوعات کے طور پر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس کا کیا مطلب ہے؟

اقتصادی ماہر یوسف التابعی نے وضاحت کی ہے کہ بستیوں کی مصنوعات کے بارے میں امریکی فیصلے کے کیا نتائج ہوں گے:

پروڈکٹ لیبلنگ کا مقصد اس فیکٹری کے مقام کی نشاندہی کرنا ہے جو جون 1967 سے اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقے پر سامان پیدا کرتی ہے۔ جب کوئی ملک اسرائیلی سامان وصول کرتا ہے تو وہ اس پر ایک لیبل لگاتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ ’’فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی بستیوں میں بنی ہوئی۔‘‘ برطانیہ ایسا کرنے والا پہلا ملک تھا، اس کے بعد ڈنمارک اور بیلجیم نے ایسا کیا۔ پھر یورپی یونین نے واضح کیا کہ مغربی کنارے، مشرقی القدس اور گولان کی پہاڑیوں سے آنے والے تمام سامان کو بستیوں سے آنے والے کے طور پر نشان زد کیا جانا چاہیے۔

اسرائیل نے ہیرا پھیری کرنے اور اصل مقام کی شناخت چھپانے کی کوشش کی لیکن یورپی عدالت انصاف نے فیصلہ دیا کہ اسرائیل پیداوار کے مقام کی وضاحت کرنے کا پابند ہے۔ بصورت دیگر اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔

اس لیبل کی وجہ سے صارفین کے ایک بڑے گروپ نے اسرائیلی مصنوعات سے پرہیز کرنا شروع کردیا جس سے اسرائیل کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ امریکہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اسرائیلی مصنوعات بستیوں کے لیبل کے بغیر امریکہ داخل ہوتی تھیں۔ یاد رہے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تجارت کا حجم 50 بلین ڈالر ہے۔

امریکی سیاسی تجزیہ نگار جواد الشامی نے امریکی اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ امریکہ پہلے اس اقدام کو مسترد کر چکا تھا اور الٹا وہ یورپ پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ اپنے اس اقدام کو واپس لے لے۔ لیکن اب واشنگٹن نے اسرائیل کے خلاف امریکہ کے اندرونی غصے کے ساتھ اس اقدام کا سہارا لیا ہے۔ بستیوں سے آنے والی اسرائیلی مصنوعات کو متعارف کرانے سے بہت سے لوگ انہیں خریدنے سے گریز کریں گے۔

انہوں نے کہا اس اقدام کا مقصد صرف ایک تنبیہ بھی ہو سکتی ہے اور اگر یاہو حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسی میں کمی آتی ہے تو اس اقدام کو ترک کیا جا سکتا ہے۔ اسرائیل امریکہ کو تقریباً 20 بلین ڈالر کی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ اس میں سے کتنا حصہ بستیوں سے نکلتا ہے۔

کوئی تبدیلی نہیں آئیگی

تاہم امریکی انتظامیہ کی سیٹلمنٹ مصنوعات کے بارے میں منصوبہ بندی سے امریکہ اسرائیل تعلقات میں کسی بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرنے کی توقع نہیں ہے۔ جمعہ کے روز بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے نکلتے ہوئے ایک صحافی کے سوال کہ ’’آیا امریکہ اسرائیل کی حمایت ترک کردے گا‘‘ کا طنزیہ جواب دیا اور کہا: "یار تم کہاں کے ہو؟"، پوچھنے سے پہلے دیکھ لو: "کیا یہ کوئی سنجیدہ سوال ہے؟"

بائیڈن نے کہا کہ اسرائیل وہی کر رہا ہے جو امریکہ نے غزہ کو امداد پہنچانے کے سلسلے میں درخواست کی تھی۔ بائیڈن نے اس بیان سے ایک دن قبل نیتن یاہو سے 30 منٹ کی فون کال کے دوران امریکی حمایت سے متعلق خبردار کیا تھا۔ اس فون کال کے کچھ وقت کے بعد اسرائیل نے شمالی غزہ میں عارضی طور پر امدادی کی ترسیل کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے چند روز قبل امریکی اخبار "پولیٹیکو" نے اطلاع دی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ تل ابیب کو 18 بلین ڈالر مالیت کے ایک تاریخی نئے ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے کی منظوری دینے پر غور کر رہی ہے۔ اس معاہدے میں 50 نئے ایف 15 لڑاکا طیارے اور 30 درمیانی رینج کے فضائی میزائل، گولہ بارود اور سازوسامان شامل تھا۔ اسلحے کا یہ معاہدہ واشنگٹن کے ہاتھ میں سودے بازی کے ایک ٹول میں بدل سکتا ہے۔ اس کے ذریعہ امریکہ غزہ میں اپنے وژن کو حاصل کرنے کے لیے اسرائیل کو طرز عمل تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں