تونسی مرحوم رہنما حبیب بورقیبہ کی بیٹی کے بیان نے تنازع کھڑا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تونس کے مرحوم رہنما حبیب بورقیبہ کی بیٹی ھاجر بورقیبہ کا نام سوشل مڈییا ویب سائٹس پر بڑی تعداد میں تونس کے شہریوں میں گردش کر رہا ہے۔ ھاجر بورقیبہ نے صدر قیس سعید سے اپنے والد اور ان کے اہل خانہ کی توہین کو جرم قرار دینے کا حکم نامہ جاری کرنے کا مطالبہ کردیا۔ ان کے اس مطالبے نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔

سوشل میڈیا پر بہت سے کارکنوں نے حبیب کی بیٹی ھاجر کے اس مطالبے کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار کو دبانے اور آزادی اظہار پر حملہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ھاجر بورقیبہ کی اس درخواست پر طنز کیا گیا اور بہت سے لوگوں نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔ کچھ افراد نے اس مطالبے کو عجیب و غریب اور غیر منطقی قرار دیا۔

کچھ افراد نے ممانعت کے کلچر کے پھیلاؤ اور آزادیوں کو دبانے کی مذمت کی۔ کچھ افراد کا خیال تھا کہ کسی کو بھی بورقیبہ اور رہنماؤں پر تنقید کرنے اور ان کے دور حکومت میں ان کی ترقی کا جائزہ لینے کا حق ہے۔

کارکن عبدالمجید المسلمی نے لکھا ھاجر بورقیبہ نے اپنے والد کو اس عجیب و غریب درخواست کے ذریعے بہت ناراض کردیا۔ اس درخواست میں انہوں نے ایک مردہ صدر کی توہین کرنے سے منع کرنے کا حکم نامہ جاری کرنے کا کہا۔ انہوں نے کہا توہین کو مسترد کرتے ہیں لیکن آزادیوں کو محدود کرنے والے فرمانوں سے اسے روکا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بورقیبہ کا راستہ اور جدوجہد اس کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ تمام تونس کے باشندوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی لیے ہر شہری کو اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق ہے۔ انہوں نے تیونس کے معاشرے میں جبر اور روک تھام کے کلچر کے پھیلاؤ سے خبردار کیا۔

بلاگر منیر صحب نے کہا کہ ھاجر بورقیبہ کا بیان جمہوری عمل کے بارے میں ان کی لاعلمی کی عکاسی کرتا ہے۔

کارکن منجی عباس کا خیال تھا کہ بورقیبہ تنقید سے بالاتر نہیں ہے۔ خاص طور پر جب انہوں نے غلطیاں کی ہیں۔ ہم ان کی تاریخ کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن انھیں تنقید سے بالاتر ایک لیجنڈ کے طور پر پیش نہیں کر سکتے۔

تونس کی علامت

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب حبیب بورقیبہ کی بیٹی ھاجر بورقیبہ نے اپنے والد کی برسی کے موقع پر صدر قیس سعید سے ملاقات کے دوران کہا کہ تاریخ کو جعل سازی اور مٹانے سے روکنے کے لیے ایک حکم نامہ جاری کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر اس لیے کہ ایسے اہلکار اور صحافی ہیں جو مرحوم صدر حبیب بورقیبہ کی توہین کرتے ہیں۔ اور مرحوم صدر اور ان کے وقار کو نقصان پہنچانے اور ان کے خاندان کی توہین کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم تیونسی رہنما نے تونس کے لیے بہت کچھ کیا اور ہو سکتا ہے کہ ان سے غلطی ہوئی ہو۔ لیکن اس سے کسی کو بھی کسی ایسے شخص جو تونس کی علامت سمجھتے ہیں کی توہین کرنے کی اجازت نہیں مل جاتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں