مملکت کی معیشت کو تیل کی آمدن سے ہٹ کر استوار کرنے میں سعودی ویژن 2030 کتنی اہم ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں اقتصادی شعبے میں تنوع کے لیے تیل کے علاوہ دیگر شعبوں میں سرگرمیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مملکت اقتصادی منظر نامے میں تیل کی آمدنی سے ہٹ کر آنے کو تیار ہے۔

ریاض بینک سعودی عرب پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس ماہ مارچ میں 57 پر تھا۔ ماہ فروری میں یہ 57.2 پر تھا۔ بہرحال انڈیکس کا 50 سے اوپر ہونا خوش آئند ہے۔ موسمی اعتبار سے ایڈجسٹ یہ انڈیکس مملکت میں سرگرمیوں کی وسعت کی نشاندہی کرتا ہے۔

ماہ فروری میں آؤٹ پٹ ذیلی انڈیکس 61.5 سے بڑھ کر ماہ مارچ میں 62.2 تک پہنچ گیا۔ گذشتہ سال ماہ سمتبر کے بعد انڈیکس بلند ترین سطح پر تھا۔ انڈیکس میں یہ اضافہ 'مینوفیکچرنگ سیکٹر' کو ملنے والے نئے آڈرز کے بعد سامنے آیا ہے۔ نئے ملنے والے ان آرڈرز سے مملکت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

ریاض بینک کے سربراہ معیشت نائف الغیث نے کہا ہے 'سعودی عرب کے 'پرچیزنگ مینجرز اندیکس' میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تیل کے علاوہ دیگر شعبوں میں توسیع کے سبب ہوا ہے۔

کاروباری سرگرمیوں میں اضافے سے پیداوار میں چھ مہینوں کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خریداری سرگرمیوں میں اضافے نے مارکیٹ کے خوشگوار منظرنامے کو اجاگر کیا ہے۔

سعودی عرب میں ہونے والی اقتصدای تبدیلیوں کے ستاھ ہی ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کے ستاھ شراکت داری کی جائے۔ نیز اس کی ضرورت تیل اور گیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت کو پورا کیا جائے۔

پیداوار شعبے کے ماہر اور 'ناصر سیدی اینڈ ایسوسی ایٹس کے بانی و صدر ناصر سعیدی نے کہا ہے 'سعودی عرب کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان نوجوانوں کے ساتھ نجی شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ نہ کہ محض پبلک سیکٹر میں تیل پر انحصار کیا جائے۔ 'ماہرین کا ماننا ہے کہ نجی شعبوں کی طرف جانے سے ملازمتوں کے بہتر مواقع دستیاب ہوں گے۔

ناصر سعیدی نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے کہا 'نجی شعبے میں کووڈ 19 کے بعد بہتری کی بازگشت مارچ 2024 میں سنائی دی ہے۔ یہ بازگشت سعودی پی ایم آئی کے حالیہ انڈٰیکس میں سنائی دی ہے۔ منڈیوں کی مضبوطی نئے کلائنتس کی آمد کے ساتھ ممکن ہوئی ہے۔'

ویژن 2030

ویژن 2030 سعودی عرب کو تیل کے انحصار سے نکال کر دیگر شعبوں میں بھی آگے لے جا رہی ہے۔ سعودی عرب سیاحت و تعمیرات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ مملکت کا سٹریٹجک فریم ورک 2016 میں شروع کیا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں تیل کسے متعلق سرگرمیوں میں کمی کے باعث سعود جی ڈی پی میں 0.8 فیصد کمی ہوئی ہے۔ جبکہ دیگر شعبوں میں 4.4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سعودی وزارت اقتصادیات و منصوبہ بندی نے کہا ہے کہ 2023 میں مملکت کا 50 فیصد جی ڈی پی تیل کے علاوہ دیگر شعبوں سے متعلق رہا ہے۔ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔

ناصر سعیدی نے بتایا 'نجی شعبوں کے سیاحت وتفریح جیسے شعبوں سے شرح نمو 40 فیصد ہے۔ نیز خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت سے یہ شرح مزید بڑھی ہے۔ 2023 میں بے روزگاری کی شرح 13.7 فیصد تک آ گئی۔ مملکت کی تاریخ میں یہ سب سے کم ترین سطح تھی۔'

ناصر سیعدی نے مزید کہا 'خواتین ڈیجیٹل ترقی کے دور میں معیشت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ سعودی عرب نے ویژن 20230 کے اہداف تک پہنچتے ہوئے 27 ملین غیر ملکی سیاحوں کو خوش آمدید کہا ہے۔ نیز 77 ملین ملکی سیاحوں کی میزبانی بھی کی ہے۔'

سعودی ویژن 20230 کے مطابق سال 2030 تک 150 ملین سیاحوں کو سعودی عرب میں خوش آمدید کہنا ہے۔ سعودی عرب کا سیاحتی شعبہ، رئیل اسٹیٹ کے شعبے کی طرح ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ سیاحوں کی مملکت آمد سے عالمی سطح پر سعودی عرب کی ساکھ کو بہتر بنایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں