مشرق وسطیٰ

ہم نے حماس کو غزہ میں جنگ بندی کی ایک سنجیدہ پیشکش کی ہے: امریکی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس رفح میں ممکنہ اسرائیلی فوجی کارروائی کے لیے کوئی تاریخ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ غزہ کی صورت حال پر بات کرنے کے لیے اگلے ہفتے دوبارہ اسرائیلی حکام سے ملاقات کریں گے۔

وزارت خارجہ میں اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بلنکن نے کہا کہ امریکہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے قطر اور مصر کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیر کو 400 ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی، جو کہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد پٹی میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اسرائیل نے غزہ میں امداد کے داخلے کو آسان بنانے کے لیے اہم وعدے کیے ہیں"۔

جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری مذاکرات کے بارے میں بلنکن نے کہا کہ واشنگٹن "حماس کو ایک سنجیدہ پیشکش کرے گا اور اسے اسے قبول کرنا چاہیے"۔ جبکہ اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا کہ تل ابیب وسیع خاکہ پرامریکی تجویز پر حماس کے جواب کا انتظار کر رہا ہے‘‘۔

بلنکن نے منگل کے روز کہا تھا کہ اگر چند سالوں میں غزہ کی پٹی مکمل طور پر تباہ ہوگئی تو عرب ممالک اس کی تعمیر نو میں شامل نہیں ہوں گے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق بلنکن نے فلسطینی ریاست کے قیام کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے CNN کے ساتھ ڈیووس میں ایک انٹرویو کے دوران کہ"آپ کو فلسطین کا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔" انہوں نے مزید کہا کہ "عرب ممالک یہ کہہ رہے ہیں ہم معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ ان کاکہنا ہے کہ اگر اگلے چند برسوں میں غزہ کو دوبارہ تباہ کیا جاتا ہے تو وہ اس کی تعمیر نو میں شامل نہیں ہوں گے۔

دوسری طرف حماس کے رہ نما محمد نزال نے العربیہ کو بتایا کہ ہم امریکی تجویز کے بارے میں صرف میڈیا سے سن رہے ہیں۔

محمد نزال نے کہا کہ حماس اس اسرائیلی تجویز کا مطالعہ کر رہی ہے جو اسے ثالثوں کے ذریعے موصول ہوئی ہے۔ اسرائیلی تجویز حماس کے مطالبات کو پورا نہیں کرتی۔

حماس کے رہ نما نے وضاحت کی کہ اسرائیل صرف ایک عارضی جنگ بندی کی بات کر رہا ہے"ہمیں ثالثوں کی طرف سے جو کچھ ملا وہ ایک تجویز ہے جس کے بارے میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے تھی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں