اسرائیل کے لیے ایرانی خطرہ حقیقی، وقت کا تعین نہیں کرسکتے: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو کہا ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں دمشق میں ایرانی قونصل خانے کو نشانہ بنانے والے حملے کا جواب دینے کے لیے ایران کی جانب سے اسرائیل کو دھمکیاں حقیقی ہیں۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم اب بھی ایران کے ممکنہ خطرے کو حقیقی اور قابل اعتبار سمجھتے ہیں۔ امریکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا متمنی ہے کہ کسی حملے کی صورت میں اسرائیل اپنے دفاع کے قابل ہو۔ تاہم انہوں نے کسی ممکنہ وقت کے بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ امریکہ اسرائیل کے دفاع کے لیے اپنے عزم میں سنجیدہ ہے۔

صورتحال پر گہری نظر

انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن تہران کے خطرے کی روشنی میں خطے میں اپنی افواج کی حیثیت پر غور کر رہا ہے اور صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ دو امریکی عہدیداروں نے توقع ظاہر کی تھی کہ ایران آج جمعہ کو اسرائیل پر میزائلوں اور 100 سے زیادہ ڈرونز سے حملہ کرے گا۔

نام ظاہر نہ کرنے والے دونوں عہدیداروں نے کہا کہ اسرائیلیوں کے لیے اس سائز کے حملے کا سامنا کرنا مشکل ہو گا لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ تہران کسی بڑے حملے سے بچنے کے لیے چھوٹے پیمانے پر بھی حملہ کرسکتا ہے۔

اس سے قبل ایران نے بار بار اسرائیل کو اپنے قونصل خانے کو نشانہ بنانے پر سزا دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزیر دفاع محمد رضا اشتیانی نے تل ابیب کو "زبردست دھچکا" دینے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں