سعودی عرب: ہراساں کرنیوالوں کی تشہیر ان کے لیے عبرتناک سزا بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے سکیورٹی حکام اپنے میڈیا بیانات میں ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والوں کے ناموں کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ سعودی عرب میں ہراسیت جیسے جرائم کرنے والوں کی تشہیر کو ان کے لیے ایک سزا قرار دیا جاتا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق تشہیر کی یہ سزا ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام میں موثر میں ثابت ہوتی ہے۔

گزشتہ جمعہ کو ہولی کیپیٹل پولیس نے ایک خاتون کو ہراساں کرنے والے ایک مصری باشندے کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ولید السید عبدالحمید کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کرکے اسے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ہفتہ کو جدہ گورنریٹ پولیس نے شہری ناصر ہادی حمد آل صلاح کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ اس نے ایک خاتون کو ہراساں کیا تھا۔

ہراسیت کی روک تھام کا نظام

سعودی عرب میں ہراساں کرنے کے انسداد کے نظام میں ہراساں کرنے کے جرم کا ارتکاب کرنے والے کو دو سال سے زیادہ کی قید اور ایک لاکھ ریال سے زیادہ جرمانہ یا ان دو میں سے ایک جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔ اسی سطح پر نفسیاتی اور سماجی مشیر احمد نجار نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہراساں کرنا ایک قانونی اور اخلاقی جرم ہے اور اس سے قانونی پہلو سے نمٹنے کا اپنا ایک نظام ہے۔ اس معاملے کو ذمہ دار ایجنسیاں ہینڈل کرتی ہیں۔

کمیونٹی کا تحفظ

انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن میں فوجداری قانون کے پروفیسر ڈاکٹر اصیل جعید نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ سعودی سکیورٹی حکام کی جانب سے ہراساں کرنے والوں کے نام شائع کرنے کا فیصلہ معاشرے کے تحفظ اور حفاظت کو یقینی بنانے کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ شہریوں کے اس قدم سے شفافیت میں اضافہ ہوتا ہے اور ان گھناؤنے جرائم کا مقابلہ کرنے کی اہمیت کے بارے میں آگاہی بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ یہ اقدامات عوامی تحفظ اور حفاظت کو بڑھانے کے لیے مسلسل کوششوں کا حصہ ہونا چاہیے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ان اقدامات کا مثبت اثر پڑے گا۔

انہوں نے اپنی بات کا اختتام یوں کیا کہ واضح رہے ہراساں کرنے کے جرم کا شکار ہونے والے کو پولیس کو ہراساں کرنے کے جرم کی رپورٹ پیش کرنے سے پہلے ایک ماہر وکیل سے پوچھنا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جرم ثابت ہوسکتا ہے یا نہیں۔ ہراساں کرنے کے عمل کو ثبوت کے ساتھ ثابت کرنا ضروری ہے۔ مدعا علیہ ہراساں کرنے کی شکایت درج کروانے والے کے خلاف ایک بدنیتی پر مبنی رپورٹ درج کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں