آئی ایم ایف سے قرض کے نئے پروگرام پر مذاکرات کر رہے ہیں: پاکستانی وزیر خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان کے وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے اپنے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام میں معاونت کے لیے مالیاتی ادارے کے ساتھ ایک نئے ملٹی بلین ڈالر قرض کے معاہدے پر بات چیت شروع کر دی ہے۔ ادھر پاکستان کی معاشی کامیابی کے لیے امریکہ نے بھی اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں اے ایف۔ پی سے انٹرویو کے دوران کہا کہ پاکستان نے "آئی ایم ایف سے کئی برسوں پر مشتمل اربوں ڈالر کے ایک نئے قرض پروگرام کے لیے بات چیت شروع کر دی ہے۔"

اورنگزیب نے، جو ایک سابق بینکر ہیں اور جنہوں نے گذشتہ ماہ ہی اپنا عہدہ سنبھالا ہے، کہا کہ مارکیٹ کا اعتماد، مارکیٹ کا جذبہ اس مالی سال میں بہت زیادہ بہتر شکل میں ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اس ہفتے کے دوران، ہم نے فنڈ کے ساتھ ایک زیادہ وسیع، توسیعی پروگرام میں شامل ہونے کے لیے بات چیت شروع کی ہے۔

آئی ایم ایف کے ایک ترجمان نے پاکستان کے لیے اس وقت جاری نو ماہ کے پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے, جو جلد ہی مکمل ہونے والا ہے، اے ایف پی کو بتایا کہ فنڈ کی توجہ "موجودہ اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ پروگرام کی تکمیل پر ہے،" ترجمان نے مزید کہا، "نئی حکومت نے ایک نئے پروگرام میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، اور فنڈ کا عملہ اس آئندہ پروگرام پر ابتدائی بات چیت کے لیے تیار ہے۔"

دوسری طرف امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پیش رفت کی ہے اور ہم قرضوں کے بوجھ سے نمٹنے کی اس کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

پاکستانی وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف سے نئے قرض کے معاہدے پر بات چیت سے متعلق ہفتہ وار بریفینگ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا “ہم حکومت پاکستان کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ اپنے معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اقتصادی اصلاحات کو ترجیح دے اور اس میں توسیع کرے۔" انہوں نے کہا "ملک کی معاشی کامیابی کے لیے ہماری حمایت غیر متزلزل ہے”

منگل کو بریفنگ کے دوران امریکی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تکنیکی معاہدوں سمیت اپنے تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو بھی جاری رکھنا، دوطرفہ تعلقات کے لئے امریکہ کی ترجیحات ہیں۔

پاکستان کے امریکہ اور چین دونوں کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات ہیں، جس نے اسے ایک مشکل پوزیشن میں ڈال دیا ہے کیونکہ دونوں ملک ایک مہنگی تجارتی جنگ کا آغاز کر چکے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب شریف حکومت دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے، اورنگزیب نے کہا، "امریکہ ہمارا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے، اور اس نے ہمیشہ ہماری مدد کی ہے، سرمایہ کاری کے معاملے میں ہمیشہ ہماری مدد کی ہے۔" "لہذا وہ ہمیشہ پاکستان کے لیے ایک بہت ہی اہم رشتہ رہے گا۔"

انہوں نے مزید کہا"دوسری طرف بہت سی سرمایہ کاری، خاص طور پر بنیادی ڈھانچے میں، سی پیک کے ذریعے آئے۔،" انہوں نے تقریباً 1,860 میل طویل چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا, جو چین کو بحیرہ عرب تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔

اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے لیے تجارتی جنگ میں اسی طرح کا کردار ادا کرنے کا ایک "بہت اچھا موقع" ہے جیسا کہ ویت نام جیسے ممالک نے کیا تھا، جو کچھ چینی اشیا پر محصولات کے نفاذ کے بعد، امریکہ کے لیے اپنی برآمدات کو ڈرامائی طور پر بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہمارے پاس پہلے ہی ایسا کرنے کی چند مثالیں موجود ہیں۔ "لیکن ہمیں جو کرنے کی ضرورت ہے وہ اس کو بڑھانا ہے۔"

پاکستان، ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے کے لیے جس نے اسے گزشتہ موسم گرما میں ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا, بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ہونے والے 9 ماہ کے 3 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے اختتام کے قریب ہے، جس کی 1.1 ارب ڈالر کی آخری قسط کے اس ماہ کے آخر میں منظور ہونے کا امکان ہے۔ "

اورنگزیب نے کہا، "مجھے لگتا ہے کہ ہم کم از کم تین سالہ پروگرام کے لیے درخواست کریں گے۔" "کیونکہ جیسا کہ میں دیکھ رہا ہوں اسٹرکچرل اصلاحات کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے میں مدد کرنے کے لیے ہمیں اس کی ضرورت ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ مئی کے دوسرے یا تیسرے ہفتے تک گفتگو کا کوئی خاکہ سامنے آ سکتا ہے۔

پاکستان میں اس سال فروری میں ہونے والے انتخابات، دھاندلی کے الزامات سے متاثر ہوئے، جن میں اپوزیشن لیڈر عمران خان کو جیل میں ڈال دیا گیا اور انتخاب لڑنے سے روک دیا گیا، اور ان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی کریک ڈاؤن کا نشانہ بنی۔

شہباز شریف کی قیادت میں ابھرنے والے متزلزل اتحاد کو بچت کے غیر مقبول اقدامات کا سلسلہ نافذ کر کے معاشی تبدیلی کی انجینئرنگ کا کام سونپا گیا ہے۔ پچھلی حکومت کی جانب سے پروگرام کے ایک حصے کے طور پر بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کی منظوری کے بعد، پاکستان خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اپنے سرکاری اداروں (SOEs) کو فروخت کرنے کے لیے نجکاری مہم کے وسط میں ہے۔

اس فہرست میں پہلا ادارہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز ہے، جو ملک کی قومی ایر لائن ہے۔ اورنگزیب نے کہا، "ہمیں اگلے مہینے یا اس کے لگ بھگ ممکنہ بولی دہندگان کی دلچسپی کے بارےمیں معلوم ہو جائے گا۔"

انہوں نے مزید کہا ہماری خواہش ہے کہ اس نج کاری کو جون کے آخر تک فنشنگ لائن پر لے جائیں۔ بقول ان کے" اگر پی آئی اے کی نجکاری حکومت کے لیے سود مند رہی تو دوسری کمپنیاں جلد ہی اس کی پیروی کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک پوری پائپ لائن بنا رہے ہیں،"اگلے دو برسوں میں ہم اس (شعبے) میں واقعی تیزی لانا چاہتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size