الرواشین الحجاز کی ایک قدیم تعمیراتی تاریخ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مغربی سعودی عرب میں حجاز کا خطہ اپنی تعمیرات میں مختلف جیومیٹریکل شکلوں والی لکڑی کی کھڑکیوں، جنہیں ’’ رواشین‘‘کہا جاتا ہے، کے حوالے سے ممتاز ہے۔ عمارتوں کے بیرونی حصے پر بنی یہ کھڑکیاں سعودی عرب میں فن تعمیر کی تاریخ کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ دست کاری کو ترقی دینے اور اس ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے والوں کی ان لکڑی کی بالکونیوں اور کھڑکیوں میں خاص دلچسپی ہے۔

اسی حوالے سے روایتی ثقافت کے ماہر انجینئر حسان طاہر نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے بات چیت کی اور بتایا کہ سعودی عرب کے ذمہ دار حکام نے اس ورثے کو محفوظ رکھنے اور ترقی دینے کے لیے اس ہنر کی دیکھ بھال کی ہے۔ تاریخی جدہ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ایک بڑا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے میں تحقیقی مراکز، تربیتی کورسز اور خصوصی ورکشاپس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مدینہ منورہ میں ماڈل لیبارٹریز بھی قائم ہیں جو اس ہنر کو ترقی دینے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔

حسان طاہر نے بتایا کہ الرواشین آج بھی حجاز کے علاقے میں روایتی اور پرانے مکانات میں موجود ہیں۔ خاص طور پر تاریخی جدہ کے علاقے میں الرواشین شہری ورثے کے تصورات کی گواہی دے رہی ہیں اور حجازی فن تعمیر میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک حوالہ ہیں۔

روشان کے حصے

رواشین روشان کی جمع ہے۔ لکڑی کی کھڑکی یا الروشان کے حصوں کو دیکھیں تو اس کا ایک حصہ ’’الغولہ‘‘ ہے۔ یہ روشان کا سب سے نمایاں حصہ ہے۔ اسے ’’ مشربیہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایک حصہ شٹر ’’الشیش‘‘ ہے جو ہوا کے داخلے کی سہولت فراہم کرتا ہے اور اس نے مشربیہ کو تین اطراف سے ڈھانپ رکھا ہوتا ہے کہ روشان میں تین اطراف سے ہوا داخل ہوسکے۔ ایک حصہ ’’ الکوابیل‘‘ ہے۔ یہ وہ حصہ ہے جس کے اوپر ’’الروشان‘‘ بنی ہوتی ہے۔ یہ حصہ پتھر پر مشتمل ہوتا ہے۔

علاقہ کے لحاظ سے حجاز کی رواشین کے ڈیزائنوں میں فرق بھی موجود ہوتا ہے۔ مکہ کے علاقے کے راوشین جدہ کے واشین سے ممتاز ہیں ۔ یہ سب سے لمبا اور سائز میں سب سے بڑا ہے۔ یہ قطاروں میں نصب کی جاتی ہیں اور پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔

مدینہ منورہ میں راوشین اپنی آرائشی ترتیب کی وسیع اقسام میں منفرد ہیں۔ ، اسے اس کی ڈیزائن کی خصوصیت اور شاندار نقاشی سے ممتاز کیا گیا ہے۔ جدہ کا تاریخی علاقہ راوشین کی روایتی طرز تعمیر لیے ہوئے ہے۔ یہ قدیم حجازی طرز تعمیر کی نمائندگی کرتا ہے۔

تعمیراتی اور جمالیاتی الفاظ

راوشین کو ایک اہم ترین تعمیراتی اور جمالیاتی ذخیرہ الفاظ میں شمار کیا جاتا ہے۔ رواشین نے حجاز کے علاقے میں روایتی عمارات کے اگلے حصے کے ڈیزائن کو متاثر کیا ہے۔ حجاز کے لوگوں نے چھٹی صدی ہجری کے آخر میں رواشین میں جدت پیدا کیے۔ عباسی دور سے یہ فن ترقی کرتا رہا اور جدید دور تک حجاز کے شہروں کی عمارتوں میں قائم رہا۔ خاص طور پر آج بھی کئی عمارات میں رواشین کو دیکھا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں