مسجد کی تعمیر کے نام پر فنڈ ریزنگ، جنوب کو ریائی یو ٹیوبر پر دھوکہ دہی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

ایک مشہور کورین مسلمان یو ٹیوبر کا مساجد کی تعمیر کے لیے چندہ نجی اکاؤنٹس میں اکھٹا کرنے کے سکینڈل نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ جنوبی کوریا کے میڈیا اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس میں الزام عائد کیا گیا کہ آٹھ ملین فالوورز والے داؤد کیم نے جنوبی کوریا سے باہر کے مسلمانوں کا استحصال کیا ہے۔

یوٹیوب پر پانچ ملین اور انسٹا گرام پر تین ملین سے زیادہ فالوورز کے ساتھ کورین مسلم داؤد کیم غیر کوریائی مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر مقبول ہے۔ 2019میں اسلام قبول کرنے کے بعد وہ لاکھوں ویوز حاصل کر چکے ہیں۔ وہ کوریائی مسلمانوں کے مواد تخلیق کرتے ہیں۔

ڈایگو مسجد کے لیے عطیات کا سکینڈل

داؤد کیم کا حال ہی میں جنوبی کوریا میں سرکاری اسلامی حکام کے ساتھ تنازع کھڑا ہوگیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ڈایگو شہر میں ایک مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی مالی اعانت کے لیے اپنے فالوورز سے چندہ اکھٹا کر رہے ہیں۔ ڈایگو مسجد کی تعمیر کا منصوبہ جنوبی کوریا کی مسلم کمیونٹی کے درمیان سب سے زیادہ متنازعہ موضوعات میں سے ایک بن گیا۔

مسجد کی تعمیر کے امکان پر حکام اور علاقے کے رہائشیوں کے درمیان جاری چار سال سے تنازع چل رہا ہے۔ اس دوران داؤد کیم کو اپنے یوٹیوب چینل کے لیے مواد ملتا رہا۔ حکومت کی طرف سے تعمیراتی عمل کو درست قرار دیے جانے کے باوجود علاقے کے مکینوں نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ اس مسجد کی تعمیر پر آبادی کی شدید مخالفت کا خطرہ ہے۔

مسجد بنانے میں میری مدد کرو

داؤد کیم نے پانچ ماہ قبل اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ’’ اگر آپ کوریا میں اسلام کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو براہ کرم چندہ دیں۔" انہوں نے اپنے غیر ملکی فالوورز سے عطیات جمع کرنے کے لیے کہا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے پے پال کے اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر رقم بھیجنے کا کہا۔

ایک سال قبل یوٹیوبر داؤد کیم نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ اس کے پاس جنوبی کوریا میں مساجد کی تعمیر کے دو منصوبے ہیں۔ پہلا ڈیگو میں اور دوسرا دارالحکومت سیول میں۔ انگریزی میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا وہ دو منصوبوں کے مالک ہیں۔ انہوں نے تعمیرات اور قانونی اور مالیاتی چیلنجوں کی تفصیلات بھی شیئر کیں جن کا انہیں خاص طور پر ڈیگو شہر میں سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مداحوں سے ملنے والے عطیات کے ذریعے 50 ہزار ڈالر اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے اور ان عطیات کی وجہ سے وہ ڈیگو مسجد کی تعمیر کا عمل دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ڈایگو مسجد کی تعمیر کے عمل کے لیے ذمہ دار سرکاری اسلامی ادارے تنظیم کے این یو نے یوٹیوبر کم داؤد کے کردار کو واضح کرنے کے لیے ایک بیان شائع کیا۔ ڈایگو میں کے این یو میں مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو میں وضاحت کی ہے کہ یوٹیوبر داؤد کیم نے مسجد کو عطیہ نہیں کیا تھا۔ اس نے 2022 میں صرف ایک منتقلی کی تھی جس کی مالیت دو ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ نہیں تھی۔ اس کے بعد داؤد کیم کی جانب سے رقم جمع کرنے کے لیے غلط معلومات فراہم کرنے کے مہم کے متعلق شکوک پھیل گئے اور پوچھا جانے لگا کہ 2 ہزار ریال جمع کرانے کے بعد باقی عطیہ کردہ رقم کہاں گئی؟

کورین اسلامک یونین نے اپنے انسٹاگرام پیج پر ایک باضابطہ بیان شائع کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ جنوبی کوریا کی حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ واحد باضابطہ اسلامی ادارہ ہے اور ملک میں مساجد کی تعمیر اور ان کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کا مجاز ہے۔ یعنی داؤد کیم کو جنوبی کوریا میں مسجد بنانے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ یونین نے سرخ رنگ میں یہ بھی نوٹ کیا کہ یوٹیوبر کیم داؤد کے فنڈ ریزنگ پروجیکٹ اور ملک میں مسجد کی تعمیر کے دعووں کا یونین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کوریا کے قانون میں فنڈ ریزنگ

جنوبی کوریا میں قانون یہ بتاتا ہے کہ فنڈ ریزنگ کے عمل کو حکومت کے ساتھ رجسٹر ہونا ضروری ہے اور فنڈ اکٹھا کرنے والے شخص کو سرکاری اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ جب عطیات کے لیے سرکاری سرکاری ویب سائٹ پر داؤد کیم جو 김재한 (اس کا کورین نام) ہے کو تلاش کریں تو وہ مرکزی صفحہ پر درج نہیں ہے۔ اس صورتحال نے کورین مسلم کمیونٹی میں غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ لوگوں نے اس کے اقدامات کو گمراہ کن اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔

انچیون مسجد کا تنازع

انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے یو ٹیوبر نے اعلان کیا تھا کہ وہ انچیون میں اپنی خریدی گئی زمین پر ایک مسجد تعمیر کریں گے۔ داؤد کیم نے کہا آپ کی مدد سے میں نے انچیون میں مسجد بنانے کے لیے زمین حاصل کرنے کا معاہدہ کیا ہے، یہ جگہ جلد ہی ایک مسجد بن جائے گی، مجھے یقین نہیں آ رہا کہ یہ دن آ گیا ہے، میں کوریائی لوگوں کو تبلیغ کرنے کے لیے ایک نماز کی جگہ اور ایک اسلامی پوڈ کاسٹ سٹوڈیو بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ پوسٹ میں جائیداد کی خریداری کا معاہدہ دکھایا گیا اور بتایا گیا کہ اس نے 284.4 مربع میٹر زمین تقریباً ایک لاکھ 36 ہزار ڈالر میں خریدی ہے۔

کوریائی میڈیا نے اس کیس کی جانچ کی۔ ایس بی ایس نیوز کی طرف سے شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا جس زمین پر داؤد کیم نے معاہدہ کیا ہے وہ قدرتی سرسبز و شاداب علاقہ ہے۔ اس میں صرف 20 فیصد تعمیرات کی جاتی ہے۔ اس لیے اگر اجازت دے دی جائے تو بھی امید کہ وہ بہت زیادہ چھوٹی عمارت ہوگی اور اس کا سائز صرف 65 سے 100 مربع میٹر ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ انچیون کے ضلع ’’جنگ گو‘‘کے ایک عہیدار نے بتایا ہے کہ داؤد کیم نے صرف زمین کی فروخت کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور ابھی تک جائیداد حاصل نہیں کی ہے۔ اگر وہ عمارت کے اجازت نامے کے لیے درخواست دیں گے تو تو اس وقت یہ ایک مذہبی جگہ ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ اس نے مذہبی سہولت کی تعمیر کے لیے زمین کے مختص ہونے کی تصدیق نہیں کی اور اس کے باوجود ہی اس کی خریداری کی تفصیل اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شائع کرکے رقم جمع کرنا شروع کردی ہے۔

زمین کے اصل مالک نے ایک نیوز چینل کو بتایا کہ میں زمین کا مالک ہوں اور میں نے ایک معاہدہ پر دستخط کیے ہیں، لیکن میں نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کو معاہدہ منسوخ کرنے کے لیے مطلع کردیا ہے۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ داؤد کیم نے یوٹیوب پر کہا ہے کہ وہ اس جگہ پر ایک کنٹینر لائے گا جس سے اس کی نیت کے متعلق شکوک پیدا ہوگئے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس کا اس جگہ پر مسجد بنانے کا ارادہ نہیں بلکہ وہ اسلام اور مسجد کا نام لے کر لوگوں کو دھوکہ دے رہا اور ان سے رقم بٹور رہا ہے۔

جنگ گو آفس نے واضح موقف اختیار کیا کہ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں پہلے سڑک کی حالت کی وجہ سے مندر کی تعمیر کا اجازت نامہ حاصل کرنا ناممکن تھا۔ جنگ- گو ڈسٹرکٹ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ پورے ییونگ-جیونگ جزیرے کے علاقے کے لیے تعمیراتی اجازت ناموں کا تعین ترقیاتی عمل کے رہنما خطوط کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس علاقے میں سڑکوں کے حالات مناسب نہیں ہیں۔ اس لیے عمارت کے لیے مذہبی سہولیات کی بنا پر اجازت نامے دینا ممکن نہیں ہے۔ داؤد کیم یہ سب جانتا ہے اس کے باوجود اس نے عطیات جمع کرنا بند نہیں کیا۔

جیسے جیسے سکینڈل بگڑتا گیا متنازع یوٹیوبر داؤد کیم نے میڈیا کو بتایا کہ یہ عمارت ایک موبائل ہوم کی طرح ہوگی جس میں صرف 20 سے 30 افراد رہ سکتے ہیں۔ وہ ایک ایسی عمارت بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جس کا استعمال ایک چھوٹی عمارت پر مبنی نماز ہال کی طرح ہو۔

داؤد کیم نے اپنے انسٹاگرام پیج پر ڈایگو مسجد کے تنازع کے بارے میں ایک پوسٹ کی جس میں بتایا گیا کہ اس نے ملنے والی تمام رقم واپس کر دی ہے۔ داؤد نے کہا اگر معاملہ سچ ہے تو مجھے قانونی طور پر سزا ملنی چاہیے اور جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ مجھے سرکاری حکام کی طرف سے کوئی سزا نہیں ملی۔

جنوبی کوریا میں العربیہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ اس قسم کے کیس میں تحقیقات کی ضرورت ہے اور صورت حال اس وقت واضح ہوگی جب داؤد کیم کے خلاف تمام قانونی اقدامات نہ کر لیے جائیں۔

اس سارے تنازع کے بعد اب کوریائی شہری اس کے پرائیویٹ بینک اکاؤنٹ کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور حیران ہیں کہ اس کا اکاؤنٹ ابھی تک چندہ وصول کرنے کے لیے کیوں کھلا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ قانونی طور پر ناممکن ہے۔ غیر ملکی عطیہ دہندگان کے لیے ابھی تک اپنی رقم واپس لینے کا کوئی طریقہ سامنے نہیں آیا ہے۔

جنسی زیادتی کا ویڈیو سکینڈل

واضح رہے مشہور یوٹیوبر داؤد کو اس وقت بھی بڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب 2020 میں ایک ٹک ٹاک ویڈیو پھیلی تھی جس میں اسے ایک خاتون سے زیادتی کی کوشش کرتے دکھایا گیا تھا۔ اس کیس سے جھگڑا شروع ہو گیا تھا اور قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ شاید داؤد کیم ایک حقیقی مسلمان نہیں ہے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد یوٹیوبر داؤد نے پھر معافی نامہ پوسٹ کیا اور اعتراف کیا کہ یہ واقعہ پیش آیا تھا اور اس نے متاثرہ خاتون کے ساتھ معاملے کا تصفیہ کرلیا ہے۔

جنوبی کوریا میں اسلام

جنوبی کوریا میں تقریباً 2 لاکھ مسلمان رہتے ہیں جن میں سے 40 ہزار کورین نژاد اور تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار غیر ملکی ہیں۔ کورین اسلامک یونین کے مطابق ملک میں تقریباً 200 مساجد اور نماز ہالز موجود ہیں۔ یوٹیوبر کا یہ سکینڈل کوریائی مسلمانوں کے لیے بنائے گئے منصوبوں کے لیے ایک دھچکے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس سکینڈل سے جنوبی کوریا میں جاری حلال تجارتی منصوبوں کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں