دل اور گردے کی صحت کا دوسری قسم کے ذیابیطس کو کنٹرول کرنے سے کیا تعلق ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ٹائپ 2 ذیابیطس ان بیماریوں میں سے ایک ہے جس کے لیے ایک خاص قسم کی فہم و فراست کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس بیماری کا تعلق صرف بلڈ شوگر کی سطح سے ہے، لیکن اس کا خلاصہ اتنا سادہ نہیں ہو سکتا۔ پچھلے کچھ سالوں میں عام طور پر اس بیماری کے حوالے سے قابل ذکر پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، کیونکہ نہ صرف خون میں شوگرکی سطح پر توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت ابھری ہے بلکہ دل اور گردے کی صحت پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں مشرق وسطیٰ، ترکیہ، افریقہ اور بھارت میں ’بوہیرنگرانگلیھم‘ کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد مشرف ٹائپ 2 ذیابیطس کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت عامہ پر براہ راست اثرات کے باوجود بعض بیماریاں ظر انداز کر دی جاتی ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ صرف مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں تقریباً 73 ملین بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں اور 2045ء تک 86 فیصد اضافے کے ساتھ 136 ملین افراد تک پہنچنے کی توقعات کی جاتی ہے۔ اس لیے ان شواہد کو تسلیم کرنا ضروری تھا جو شوگر کے گردے اور دل کے ساتھ قریبی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔

کارڈیورینل سنڈروم (CRS) کی اصطلاح سے مراد دل اور گردوں کے درمیان پیتھولوجیکل تعلق ہے، کیونکہ ہر ایک دوسرے کے ناکارہ ہونے سے متاثر ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں قسم 2 ذیابیطس کا دائمی قلبی بیماری اور گردے کی دائمی بیماری کے ساتھ سنگین وبائی اور جسمانی اثرات ہوتے ہیں۔

حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ہائی بلڈ شوگر کا تعلق دل اور گردے کی بیماری سے ہے، جس طرح دل کی بیماری کا تعلق گردے کی بیماری سے ہوتا ہے اسی طرح بلڈ شوگر کا گردےاور دل کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں میں حرکت قلب کے خطرے کی سطح ایک تہائی سے زیادہ ہے۔

ٹائپ 2 ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے ایک جامع طریقہ اختیار کریں

دل، خون کی نالیوں، گردوں، اور میٹابولزم کے درمیان قریبی تعلق کی بڑھتے فہم نے اینڈو کرائنولوجسٹ، نیفرولوجسٹ، کارڈیالوجی اور بنیادی صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کے درمیان بڑھتے ہوئے عملی مہارت کے ساتھ ٹائپ 2 ذیابیطس کے انتظام کے لیے ایک جامع اور مربوط نقطہ نظر کی ضرورت کو جنم دیا ہے۔

ڈاکٹر محمد اشرف
ڈاکٹر محمد اشرف

ڈاکٹر محمد مشرف کا کہنا ہے کہ ہمیشہ بیداری پھیلانے کی ہماری کوششوں اور ان کو جدید ترین متعلقہ معلومات اور حل فراہم کرنے والے ہمارے اقدامات کے ذریعے مریضوں کو بااختیار بنانے اور صحت کے بہتر نتائج حاصل کرنے میں ان کی مدد کرنے کےہم مسلسل پرعزم ہیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ اپنے دل اور گردوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے طریقہ کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کرنے کے لیے کچھ وقت نکالنا انتہائی ضروری ہے، اور یہ باقاعدگی سے چیک اپ کروانے سے کم اہم نہیں ہے۔ مریضوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کچھ ایسے ٹیسٹ ہیں جو انہیں ان اعضاء کی فعال حالت کا اندازہ کرنے کا پتا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر البومین اور کریٹینائن کے تناسب کا تعین کرنے کے لیے گردوں کا معائنہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گلوومیرولر فلٹریشن کی شرح کو جانچنے سے گردے کے کام کی کارکردگی کا اندازہ لگانے اور ابتدائی مرحلے میں ممکنہ مسائل کی نشاندہی کرنے کے لیے خون کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

اس لیے مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صحت مند طرز زندگی کی پیروی کی اہمیت کو سمجھیں اور صحت مند طرز زندگی کی پیروی کرنے میں خوراک کی اقسام پر توجہ مرکوز کرنا، ورزش کرنا اور تناؤ سے دور رہنا ضروری ہے۔

دل اور گردوں کی صحت کو برقرار رکھنا ان اہم نظاموں کے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی اور پیچیدہ تعلق کی بنیاد پر ٹائپ 2 ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے ساتھ طبی برادری پر جلد تشخیص کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور دل، خون کی شریانوں، گردوں اور میٹابولزم کے درمیان قریبی تعلق کو اجاگر کرنے کی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں