رات 12 بجے کے بعد آئس کریم پر پابندی، فیصلے سے معروف شہر میں تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اطالوی شہر میلان میں ایک فیصلے نے تنازع کھڑا کردیا ہے۔ اس فیصلے میونسپلٹی رات 12 بجے کے بعد دیگر مصنوعات کی فروخت کے علاوہ آئس کریم کھانے پر پابندی لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ فیصلے کی وجہ شہر کی گلیوں میں آدھی رات کے بعد جاگنے والوں کی طرف سے کیا جانے والا شور شرابا ہے۔

سٹی ہال کی طرف سے تیار کردہ نئے قوانین میلان کے 12 سب سے زیادہ جاندار علاقوں میں مشروبات اور تیار شدہ کھانوں جن میں پیزا، آئس کریم اور مشروبات شامل ہیں کی فروخت پر پابندی عائد کر دیں گے۔ اس تناظر میں ڈپٹی میئر اور سیکیورٹی کے ذمہ دار مارکو گرینیلی نے فیس بک پوسٹ میں نئے فیصلوں کا جواز پیش کرتے ہوئے لکھا کمہ ہم سماجی سرگرمیوں اور تفریح، آبادی کے لیے امن اور صحت اور آزاد اقتصادی سرگرمیوں کے درمیان توازن حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دریں اثنا شہر کے میئر نے گزشتہ ماہ نامہ نگاروں کو کہا تھا کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ بہت زیادہ شور کی شکایت کرتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ اقدامات 7 مئی کو شروع ہوں گے اور نومبر کے اوائل تک شہر کے کئی علاقوں میں جاری رہیں گے۔

اٹلی کے شہر میلان کا ایک ویو
اٹلی کے شہر میلان کا ایک ویو

لیکن اگرچہ اس فیصلے میں ہر قسم کے تیار کھانے شامل ہیں لیکن ناقدین نے خاص طور پر آئس کریم کی دکانوں پر پابندی پر اعتراض کیا ہے۔ آئس کریم کے گاہکوں کو رات گئے تک سروس فراہم کرنا اطالوی ثقافت کا ایک موروثی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ دائیں بازو کے ایک اخبار نے کہا کہ آئس کریم کے خلاف اعلان جنگ کردیا گیا ہے۔ کاروباری شعبے کے نمائندوں نے بھی ان اقدامات پر تنقید کی۔ برطانوی اخبار دی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اطالوی فیڈریشن آف پبلک اینڈ ٹورسٹ آپریٹرز کے صدر لینو سٹاپانی نے کہا کہ اس اقدام سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں