رواں سال 4 چاند اور سورج گرہن کب اور کہاں دیکھے جائیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ رواں سال ہمارے کرہ ارض پر چار سورج اور چاند گرہن دیکھے جائیں گے۔ ان میں کچھ فلکیاتی مظاہر کو عرب ممالک میں بھی دیکھا جا سکے گا۔

سورج گرہن اور چاند گرہن کے مظاہر کو قمری یا ہجری مہینوں کے آغاز اور اختتام کی تصدیق کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مظاہر واضح طور پر چاند کی زمین کے گرد اور سورج کی حرکت اور زمین کی حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔

موجودہ کیلنڈرسال 2024ء کے دوران دُنیا کے ماہرین فلکیات چارچاند گرہن اور سورج کی پیشن گوئی ہے۔ یہ مناظر مصر اور عرب خطے دیکھے جا سکیں گے۔

2024ء میں متوقع دوسرے چاند گرہن کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 18 ستمبر بہ روز بدھ کو ہوگا۔ چاند کی ڈسک گرہن کی عظیم چوٹی پر زمین کے سائے میں ہوگی، اور چاند کی ڈسک میں اندھیرا صاف نظر آئے گا۔

جزوی چاند گرہن ایک گھنٹہ تین منٹ تک جاری رہے گا اور شمالی امریکہ، میکسیکو، وسطی امریکہ، جنوبی امریکہ، بحر اوقیانوس اور یورپ اور افریقہ کے بیشتر حصوں میں بھی نظر آئے گا۔

جہاں تک اس سال دوسرے اور آخری سورج گرہن کا تعلق ہے تو یہ بدھ 2 اکتوبر بہ روز بدھ ہوگا۔ اسے مصر اور سعودی عرب میں نہیں دیکھا جا سکے گا کیونکہ مغربی نصف کرہ میں رہنے والے اس گرہن کو دیکھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ گرہن بحرالکاہل کو عبور کرے گا، جو کہ زمین سے مرئیت کو چند مقامات تک محدود کردے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہماری زمین رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی آخری رات کو مکمل سورج گرہن دیکھا تھا۔ خاص طور پر 8 اپریل 2024ء کو یہ امریکہ کے کے آسمانوں پر نظر آیا اور اس کے آسمان پر اندھیرا چھا گیا۔

سورج گرہن کا انسانی اعصاب پر کیا اثر ہوتا ہے؟

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بہت سے قدرتی مظاہر جو شاید ہماری دنیا میں روزانہ رونما ہوتے ہیں۔ ان کا انسانی صحت پر اثر ہو سکتا ہے مگرہم ان اثرات کے بارے میں کم ہی جانتےہیں ان مظاہر میں جو انسانی صحت کو بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں ان میں مقناطیسی طوفان اور سورج گرہن شامل ہیں۔

ایک روسی ماہر نے بتایا کہ کس طرح مقناطیسی طوفان اور سورج گرہن انسانی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ بیماری کی علامات کی صورت میں جو بعض اوقات یہ اثرات شدید ہو سکتے ہیں۔

روسی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ایکاترینا ڈیمیانووسکایا جو ایک نیورولوجسٹ کا کہنا ہے کہ قدرتی مظاہر اعصابی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے موسم کی حساسیت کو خود مختار اعصابی نظام کی خرابیوں کی وجہ قرار دیا۔

اس نے مزید کہا کہ "یہ خیال کیا جاتا ہے کہ موسمی عوامل جسم میں باریک تبدیلیوں کا باعث بنتے ہیں جو خود مختار اعصابی نظام کو متاثر کرتے ہیں لہذا صحت مند لوگ بھی، جغرافیائی طوفانوں یا سورج گرہن کے دوران غیر ضروری تناؤ، بڑھتی ہوئی بے چینی اور حساسیت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

سورج گرہن
سورج گرہن

انہوں نے نشاندہی کی کہ جغرافیائی میدان میں تبدیلی خون کی نالیوں کی دیواروں اور خون کے جمنے کی حالت کو متاثر کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ "یہ کیپلیریوں میں خون کے بہاؤ کو سست کر سکتا ہے اور جوڑوں، آنکھوں اور کھوپڑی کے اندر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے جغرافیائی طوفان کے دوران حساس لوگ ہائی یا کم بلڈ پریشر، چکر آنا، سر درد اور آنکھوں اور جوڑوں میں درد کی شکایت کر سکتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 70 فی صد فالج، مایوکارڈیل انفکشن، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے دورے خاص طور پر جیو میگنیٹک طوفانوں کے دوران ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں