’فوت ہونے والے بیٹے کے اسکول کے لیے ایک دُکھی والد کا افسردہ کرنے والا پیغام‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کسی بھی والد کے لیے اپنے جواں سال بیٹے کی حادثاتی موت اس کے لیے کسی بڑے صدمے سے کم نہیں ہوتی اور ایک دکھی والد اپنے اس صدمے کو لے کر قبر میں پہنچ جاتا ہے۔

سعودی عرب کے عبدالرحمان بن احمد ابو سعدیہ ایک ایسے والد ہیں جن کا جواں سال بیٹا ایک المناک حادثے میں چل بسا اور والد اس کے صدمے سے نڈھال ہیں۔

باپ کا غم

سوشل میڈیا پر اسکول کی طرف سے ایک نوٹس وائرل ہو رہا ہے جس میں ابو سعدیہ کو بیٹے کی غیرحاضری کے بارے میں وضاحت کے لیے کہا گیا تھا۔ اس پیغام نے پڑھنے والوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

یہ واقعہ سعودی عرب کے علاقے عسیرکی قنا گورنری میں پیش آیا۔ نوٹس کہا کہا گیا کہ لڑکے کے اسکول میں غیرحاضری وجہ بتائی جائے تاکہ اس کی غیر حاضری کی وجہ سے ضائع ہونے والے نمبرات کو بچایا جا سکے۔

اس پر عبدالرحمان بن احمد ابو سعدیہ ہائی اسکول حکیم بن حزام کے پرنسپل کو درد بھرا پیغام بھیجا۔

انہوں نے لکھا کہ ’جناب پرنسپل صاحب اور معزز اساتذہ کرام السلام علیکم، انتہائی عزت و احترام کے ساتھ گذارش ہے کہ آپ کا شاگرد اور میرا لخت جگر محمد عبدالرحمان احمد اسکول ہی سے نہیں بلکہ وہ اب اس فانی دنیا میں بھی نہیں۔ وہ ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوکر رفیق اعلیٰ سے جا ملا ہے۔ کاش کہ میرا بیٹا زندہ ہوتا اور وہ بستر پرسویا ہوتا تو میں اسے جگا کراسکول بھیج دیتا۔ میں بھی آپ کی طرح اسے زندہ دیکھنے کا خواہاں ہوں مگر وہ ہم میں نہیں۔ مگر آپ نے یہ بات فراموش نہیں کرنی کہ یہ میرا بیٹا تھا۔ یہ آپ کا بھی بیٹا تھا۔ اس کی وفات کا سن کر آپ بھی دکھی ہوں گے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں جانتا ہوں کہ یہ پیغام غلط ہے لیکن اس نے مجھے غمزدہ کیا۔ لٰہذا میں نے آپ کے لیے گذارشات کرتاہوں۔ میری طرف سے اسکول کے تمام طلباء، اس کے ہم جماعتوں، اس کی کرسی، اس کی میز اور اسکول کے درو دیوار کو میرا سلام کہنا‘۔

خیال رہے کہ 17 سالہ طالب علم محمد گذشتہ 18 رمضان المبارک کو ٹریفک حادثے میں انتتقال کرگیا تھا۔ اس کی حادثاتی موت کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی تاہم حیران کن طور پر اسکے اسکول کی انتظامیہ کو اس کا پتا نہیں چل سکا جنہوں نے اس کے والد کو اس کی غیر حاضری کا نوٹس بھیجا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں