گریجویشن تقریب میں سعودی شہزادے نے گلے لگا لیا، کینسر میں مبتلا طالب علم کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب میں الاحسا کی کنگ فیصل یونیورسٹی میں طلبہ کے 45 ویں بیج کی گریجویشن کی تقریب کے دوران ایک طالب علم درد کو سہتے ہوئے اور اپنے کینسر پر قابو پاتے ہوئے پوڈیم کی طرف آہستہ آہستہ چل پڑا۔ کینسر کے مریض کی گریجویشن کی تکمیل میں موجودگی قابل ذکر تھی۔ اس کا پر تپاب استقبال الشرقیہ صوبے کے امیر شہزادہ سعود بن نایف نے کیا۔ اس وقت الاحساء کے گورنر امیر سعود بن طلال بھی موجود رہے۔

یہ باہمت نوجوان گریجویٹ صالح عبداللہ البراز ہے، وہ ’’لِمفوما‘‘ کا شکار ہے۔ دمام کے کنگ فہد سپیشلسٹ ہسپتال کی میڈیکل کمیٹی نے انہیں تقریب میں شرکت کی اجازت دی۔ خطے کے امیر شہزادہ سعودی بن نایف نے اس نوجوان کا ماتھا چوما اور علاج کے سفر کو جاری رکھنے کے لیے ان کی ہمت اور حوصلہ افزائی کی تعریف کی۔ صالح عبد اللہ البراز کیموتھراپی کی خوراک ملتوی کرکے تقریب میں پہنچا تھا۔

خراب صحت کے باوجود شرکت

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے طالب علم صالح عبد اللہ نے کہا کہ مجھے الشرقیہ صوبے کے امیر عزت مآب کو سلام پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ انہوں نے مجھے باپ کے سے لمس کے ساتھ گلے لگایا۔ ہمارے حکمرانوں کے لیے یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ ان کا یہ اقدام مجھے یقین اور اعتماد کے ساتھ اگلی خوراکیں لینے کے لیے مثبت توانائی فراہم کرے گا۔

صالح نے کہا یہ صورت حال حکمرانوں کی معاشرے کے افراد کو ان کے مشکل حالات میں مدد کرنے کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری پیاری مملکت میں اس ملاقات کا بہت اچھا اور مثبت اثر ہوا۔ میری گریجویشن کے بعد مجھے سالوں کی محنت اور لگن کرنے کی خوشی مل گئی۔ میں امیر الشرقیہ کا کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری بیماری کے درد کو کم کیا اور مجھے حوصلہ دیا۔، مجھے زندگی میں امید ہے.

صالح عبد اللہ نے بتایا کہ میں حیران تھا کہ مجھے لمف نوڈ کے کینسر کی تشخیص تقریباً چار ماہ قبل اپنے گریجویشن ریسرچ پروجیکٹ کی تیاری کے دوران ہوئی تھی۔ میں اپنی بیماری کے حالات کے باوجود ایک بہترین ڈگری کے ساتھ تحقیق مکمل کرنے میں کامیاب رہا۔ جس کے دوران مجھے دمام کے کنگ فہد سپیشلسٹ ہسپتال میں کیمو تھراپی کے مراحل سے گزارا گیا۔

عزت و تکریم کی کہانی

طالب علم صالح نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ عزت و تکریم کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب کیموتھراپی کی خوراک لینے کی وجہ سے میرا دو مرتبہ سر پھاڑنا پڑا۔ چوتھی خوراک کے بعد مجھے ہسپتال میں آئسولیشن میں داخل کر دیا گیا جو کہ میں برداشت نہ کر سکا۔ اس دوران اپنے نفسیاتی اثرات کے لیے میں نے کنگ فیصل یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کو ایک خط بھیجا اور میں نے اس کی ایک کاپی فیکلٹی آف لاء اور کالج آف لاء کے فیکلٹی ممبران کو بھی بھیجی۔ یونیورسٹی اور کالج آف لاء کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا اور میں نے انہیں ہسپتال کی میڈیکل کمیٹی کی منظوری سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ وہ مجھے اپنے گریجویشن کی تقریب میں شرکت کی اجازت دے دیں۔ اس تقریب کے لیے میں نے خوراک کو ملتوی کرنے کا بھی فیصلہ کیا اور الشرقیہ صوبے کے امیر کو سلام کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ اس دوران ڈین فیکلٹی آف لاء اور یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کی جانب سے زبردست تعاون کیا گیا۔ تقریب میں میری شرکت کے لیے جس طرح سہولیات کا انتظام کیا گیا اس کو دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔

کنگ فیصل یونیورسٹی کی معاونت

صالح عبد اللہ نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر نے میری تکلیف کو محسوس کرنے کے بعد ذاتی طور پر میری موجودگی کو یقینی بنایا ۔ تقریب میں شرکت کے دوران ایک ملازم کو میری تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقرر کیا گیا۔ کالج کے نائب ڈاکٹر سلیمان الحامد نے میرا استقبال کیا اور مجھے ایک پرائیویٹ کار میں بٹھایا اور مجھے فیکلٹی آف لاء کے سامنے والی اعزازی نشستوں پر بٹھایا گیا۔

گریجویشن پارٹی

واضح رہے شاہ فیصل یونیورسٹی کے الشرقیہ صوبے کے گورنر شہزادہ سعود بن نایف بن عبدالعزیز نے الاحساء کے گورنر شہزادہ سعود بن طلال بن بدر کی موجودگی میں اپنے فارغ التحصیل طلبہ کے 45 ویں بیچ کی گریجویشن کی تقریب بدھ کی شام کنگ فیصل یونیورسٹی سٹیڈیم میں منعقد کی۔ اس سال تمام ریگولر اور فاصلاتی تعلیم کے پروگراموں میں گریجویٹ ہونے والے یونیورسٹی کے گریجویٹوں کی تعداد 13298 رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں