مردہ فلسطینی ماں کے پیٹ سے نکالا جانے والا بچہ جان کی بازی ہار گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں اسرائیل نے تاریخی بربریت کرکے 203 دنوں میں 34356 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔ اس قتل عام کے دوران ہزاروں خواتین اور بچوں کو ابدی نیند سلا دیا گیا۔ گزشتہ دنوں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ڈاکٹروں نے مر جانے والی ایک فلسطینی خاتون کے پیٹ سے بچے کو زندہ نکالنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ بچے کی پیدائش سیزرین سیکشن کے ذریعے ہوئی تھی۔

غزہ کی پٹی میں رفح میں لوگوں نے ایک بچی کو دفن کیا، یہ وہ بچی تھی جس کی ماں اسرائیلی حملے میں پہلے زخمی اور پھر جاں بحق ہوگئی تھی اور ڈاکٹروں نے اس کے پیٹ سے بچی کو زندہ نکالنے میں کامیابی حاصل کرلی تھی۔ بچی کا نام اس کی فوت ہونے والی ماں کے نام پر صبرین الروح رکھا گیا تھا۔

اس کی والدہ صبرین 30 ہفتوں کی حاملہ تھیں۔ رفح میں اپنے گھر پر اسرائیلی بمباری کی وجہ سے پہلے زخمی ہوگئی تھی۔ بچی کے والد اور تین سالہ بہن جاں بحق ہوگئی تھی۔ ڈاکٹروں نے سیزرین سیکشن کے ذریعے بچی کی پیدائش کی تاہم ماں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

اماراتی ہسپتال میں نومولود بچوں کے یونٹ کےسربراہ ڈاکٹر محمد سلامہ جو بچی کی دیکھ بھال کر رہے تھے نے بتایا کہ شیر خوار بچی کو سانس کی تکلیف تھی اور اس کا مدافعتی نظام کمزور تھا۔ بچی جمعرات کو فوت ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر نے کہا میں اور دوسرے ڈاکٹروں نے اسے بچانے کی کوشش کی لیکن وہ زندہ نہ رہ سکی۔ یہ میرے ذاتی طور پر بہت مشکل اور تکلیف دہ دن تھا۔ انہوں نے کہا شاید اگر غزہ پر اسرائیلی جنگ مسلط نہ ہوتی اور ہسپتالوں کی تباہی نہ ہوتی تو ہم مزید بچوں کو زندہ رہنے میں مدد کر سکتے۔ لیکن ہسپتالوں کی تباہی سے ہماری صلاحیتیں بہت محدود ہو گئی ہیں۔

اسرائیل کی بمباری سے غزہ کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے۔ پٹی کے بیشتر ہسپتالوں کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ جو اب بھی کام کر رہے ہیں ان میں بجلی، ادویات اور دیگر سامان کی کمی ہے۔ ڈاکٹر سلامہ نے کہا بچے کی دادی نے ڈاکٹروں سے التجا کی تھی کہ وہ اسے بچالیں تاکہ یہ بچی اپنے ماں باپ اور بہن کی یاد کے طور پر ہمارے پاس رہے۔

نومولود بچی کے چچا رامی الشیخ نے بچی کی قبر کے پاس بیٹھ کر اپنے خاندان کے افراد کی موت پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں بچی کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے روزانہ ہسپتال جاتا تھا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے سانس کی تکلیف ہے لیکن میں نے اسے اتنا سنگین معاملہ نہیں سمجھا پھر ہسپتال سے فون آگیا کہ بچی فوت ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں