بظاہر روایتی جمالیاتی معیار میں کمی، مس جرمنی کو آن لائن غنڈہ گردی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

نئی مس جرمنی ابامے شناور کو آن لائن غنڈہ گردی کی مہم کا نشانہ بنا ڈالا گیا۔ 39 سال کی شناور کو اس بنا پر تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ ان کی ظاہری شکل بیوٹی کوئینز کے روایتی اور دقیانوسی جمالیاتی معیارات سے میل نہیں کھا رہی۔

برلن میں ایجنسی فرانس پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں مس جرمنی نے آہ بھری اور کہا "مجھے یہ بہت افسوسناک لگتا ہے، یہ پیغامات اتنے سطحی ہیں کہ میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔ انہوں نے ان طنزیہ تبصروں اور توہین کا حوالہ دیا جنہوں نے ان کی ظاہری شکل، عمر اور اصلیت کو متاثر کیا ہے۔ 2019 کے بعد سے "مس جرمنی" مقابلے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اسی طرح کی تبدیلیاں کسی حد تک "مس یونیورس" مقابلے میں بھی ہوئی تھیں۔ تاہم دونوں مقابلوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔

مس جرمنی مقابلے نے اپنا نام تبدیل کرکے ’’ مس جرمنی ایوارڈز‘‘ رکھ دیا ہے۔ اس میں جسامت، عمر اور وزن پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ مقابلے میں حصہ لینے والوں کی شخصیت، اقدار اور سماجی مسائل پران کے خیالات پر پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ نئے سٹینڈرڈز کے مطابق شناور کو فروری کے آخر میں مس جرمنی کا تاج پہنایا گیا تھا۔

مس جرمنی نے کہا میں نے مس جرمنی کے مقابلے میں حصہ لیا کیونکہ میں تبدیلی لانا چاہتی تھی۔ میری دو سالہ بیٹی ہے اور میں نے محسوس کیا کہ مجھے اس کے لیے رول ماڈل بننے کے لیے کچھ ذمہ داریاں سنھبالنا ہوں گی۔ میں ہمیشہ ان مضبوط ایرانی خواتین سے حوصلہ حاصل کرتی تھی جو ہر روز سڑکوں پر نکلتی ہیں اور اپنی آزادی کے لیے لڑتی ہیں۔ یہی وہ وجوہات ہیں جنہوں نے میرے دل میں کہا کہ مجھے کچھ کرنا ہے۔

مس جرمنی کا اعزاز حاصل کرنے والی ابامے شناور نے مزید کہا "میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ٹائٹل جیتنے سے اتنی ہلچل ہو جائے گی لیکن اس سے مجھے معلوم ہوگیا کہ میری جدوجہد مردوں اور عورتوں کے درمیان برابری اور فرق کے احترام کے لیے ہے اور یہ پہلے سے زیادہ اہم ہوگئی ہے۔

ابامے شناور "شیرزن" نیٹ ورک کی بانی ہیں۔ یہ نیٹ ورک خواتین کے حقوق کے لیے لڑتا ہے۔ مسابقتی ڈائریکٹر میکس کلیمر نے نفرت انگیز پیغامات سامنے آنے کے فوراً بعد اس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کہا کہ جیوری مطمئن اور پراعتماد ہے کہ اس نے صحیح شخص کا انتخاب کیا ہے۔

چوانکہ جرمنی میں غیر ملکیوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے خاص طور پر انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسند دائیں بازو کی طرف سے۔ اس لیے شناور کا کیرئیر کیریئر ایک مثبت اور حوصلہ افزا مثال کی نمائندگی کر رہا ہے۔ مس جرمنی نے بتایا کہ میں جرمنی میں سکول گئی، اپنی ڈگری حاصل کی اور فن تعمیر کا مطالعہ کیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ میں نے اس مردانہ ماحول میں خود کو ثابت کرنا، ایک عورت، ایک ایرانی اور ایک تارکین وطن کے طور پر لڑنا اور عزت حاصل کرنا سیکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں بہت فخر ہے کہ ہم انہیں ایک چھوٹی سی امید دے رہے ہیں کہ ہم ایرانی خواتین کے طور پر کسی دوسرے ملک میں کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں