مصری نژاد ہونے پر تنقید، امریکی کولمبیا یونیورسٹی کی صدر کون ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی کولمبیا یونیورسٹی کی صدر نعمت شفیق یا مینوش کا نام گزشتہ دنوں یونیورسٹی میں ہونے والے فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہروں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ مینوش مصری نژاد ماہر معاشیات ہیں۔ نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون کو غزہ پر جنگ سے متعلق کیمپس میں ہونے والے مظاہروں پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی میں اپنے ایک سال سے بھی کم کام کے بعد نعمت شفیق کو یونیورسٹی کے مظاہروں کو سنبھالنے کی وجہ سے مظاہروں کی حامی اور مخالف تمام جماعتوں کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کچھ فیکلٹی ممبران نے گزشتہ ہفتے مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے نیویارک پولیس کو بلانے کے ان کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔ دوسروں نے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرین کا کیمپ خالی کرانے کے لیے پولیس کو واپس بلائیں۔ اس دباؤ کے باوجود نعمت شفیق کو اب بھی یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی حمایت حاصل ہے۔

یونیورسٹی سینیٹ کی ایگزیکٹو کمیٹی جو فیکلٹی کی نمائندگی کرتی ہے کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نعمت شفیق اور اس کی انتظامیہ نے متعدد ایسے اقدامات اور فیصلے کیے جن سے کولمبیا یونیورسٹی کو نقصان پہنچا ہے۔ ان اقدامات میں پولیس کو بلانا، فیکلٹی سے مشاورت کیے بغیر طلبہ کی گرفتاری کی اجازت، غلط بیانی اور احتجاجی گروپوں کو معطل کرنا اور نجی تفتیش کاروں کی خدمات حاصل کرنا شامل ہیں۔

یونیورسٹی کونسل، جس میں زیادہ تر فیکلٹی اور دیگر عملے کے ساتھ ساتھ چند طلبہ بھی شامل ہیں، نے اپنے فیصلے میں نعمت شفیق کا نام نہیں لیا اور سخت مذمت کی زبان استعمال کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔ اس فیصلے میں ایک ورکنگ گروپ کی تشکیل کی شرط رکھی گئی ہے جس کے مطابق وہ ان "اصلاحی اقدامات" کی نگرانی کرے گا جو کونسل نے انتظامیہ سے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے کرنے کو کہیں ہیں۔

یہودی طلبہ کے حقوق

گزشتہ ہفتے کیمپس میں یہود دشمنی پر امریکی ایوان نمائندگان کی سماعت میں اپنی تقریر کے دوران نعمت شفیق نے کہا تھا کہ یہود دشمنی کا مقابلہ کرنے اور علمی آزادی کی حمایت کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو یہودی طلبہ ہراسیت یا امتیاز سے پاک ماحول میں احتجاج کرنا چاہتے ہیں ان کے آزادانہ تقریر کے حقوق کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرنا ہمارے کیمپس اور بہت سے دوسرے کیمپس میں حالیہ دنوں میں ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال ہے کہ یونیورسٹی یہود دشمنی کا مقابلہ کر سکتی اور ہماری کمیونٹی کے لیے کیمپس کا ایک محفوظ ماحول فراہم کر سکتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ مذہبی علمی تحقیق اور آزادی کی حمایت بھی کر سکتی ہے۔

نعمت شفیق کون ہے؟

نعمت شفیق کی پیدائش اسکندریہ میں ہوئی تھی اور ان کے خاندان نے سابق صدر جمال عبدالناصر کے دور میں مصر چھوڑ دیا تھا اور وہ جارجیا، فلوریڈا اور شمالی کیرولائنا کے درمیان رہائش پذیر رہی ہیں۔ مصری نژاد تعلیمی اور سیاسی معاشی ماہر نعمت شفیق نے جولائی 2023 سے کولمبیا یونیورسٹی کی صدارت سنبھالی ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق ان کے پیشرو لی بولنگر طویل ترین مدت تک اس عہدے پر فائز رہے تھے۔

نعمت شفیق نے ایمہرسٹ کی یونیورسٹی آف میساچوسٹس سے معاشیات اور سیاست میں بیچلر ڈگری کے ساتھ گریجویشن کیا۔ لندن اسکول آف اکنامکس سے معاشیات میں ماسٹر ڈگری اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ عالمی بینک کی اب تک کی سب سے کم عمر نائب صدر بھی رہیں۔ انہوں نے 36 سال کی عمر میں اس عہدہ پر خدمات انجام دیں۔ وہ برطانیہ کے محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور بینک آف انگلینڈ میں نمایاں عہدوں پر فائز رہیں۔ انگلینڈ کی آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم نے انہیں برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں مستقل رکنیت عطا کی اور اسی کے مطابق انہیں ’’بیرونس‘‘ کا خطاب ملا اور وہ برطانیہ میں ’’مینوشے شفیق‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں