بھارتی درسی کتاب میں خمینی بدترین افراد میں شامل، احتجاج پر پبلشر کی معذرت

بھارتی شیعہ مسلمانوں نے کتاب کے خلاف احتجاج کیا اور پبلشر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت میں ایک کتاب کے پبلشر نے ایران میں مذہبی حکومت کے بانی روح اللہ خمینی کا نام "دنیا کے سب سے شریر آدمیوں" میں درج کردیا۔ اس اقدام سے ہندوستان بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد نے اسے اسلام کیخلاف نفرت کو فروغ دینے سے تعبیر کیا اور پبلشر کیخلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

فارسی زبان کی ویب سائٹ "ایران وائر" کے ذریعہ شائع کردہ پوسٹ کے مطابق کتاب میں خمینی کے نام اور تصویر کے ساتھ ساتھ ان چند رہنماؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے جنہیں کتاب "آمر اور جابر" قرار دیتی ہے۔ دیگر رہنماؤں میں سابق جاپانی شہنشاہ ہیروہیٹو، منگول چنگیزخان، شمالی کوریا کے پہلے رہنما کم ال سنگ اور سابق عراقی صدر صدام حسین بھی موجود تھے۔

یاد رہے خمینی نے 1979 میں شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد نئی ایرانی حکومت قائم کی تھی۔ انہوں نے 1989 میں اپنی موت تک ملک کی قیادت کی۔ کتاب میں کہا گیا کہ خمینی نے بہت سے لوگوں کو اس لیے قتل کیا کہ وہ خدا پر یقین نہیں رکھتے تھے اور لوگ موسیقی سننے کی وجہ سے انتہا پسند ہوگئے تھے۔ خمینی ایرانی انقلاب اور ایران عراق جنگ کا ذمہ دار تھے۔ کتاب میں خمینی کو لاکھوں افراد کی موت کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

اس کتاب کو شائع کرنے والے پبلشر اکیوبر بُکس انٹرنیشنل (Acuber Books International ) نے دہلی کے متعدد سکولوں کے لیے کتاب شائع کی تھی۔ اس نے اپنی غلطی پر معذرت کرلی۔

رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں شیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے ایک احتجاجی مارچ کا اہتمام کیا اور سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پھیلائی جانے والی ویڈیوز میں کچھ مظاہرین کو چھوٹے اور محدود گروپوں میں گلیوں میں دکھایا گیا کہ وہ مصنفین کے خلاف احتجاج اور عدم اعتمام کا اظہار کر رہے ہیں۔

جموں و کشمیر کی شیعہ انجمن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ لاپرواہ کردار نہ صرف تاریخی درستی کو نظر انداز کرتا ہے بلکہ نقصان دہ دقیانوسی تصورات کو بھی تقویت دے رہا ہے۔ خمینی کو اخلاقی، مذہبی اور سیاسی نقطہ نظر سے سب سے زیادہ قابل احترام اور بااثر مسلم رہنما شمار کیا جاتا ہے۔ دیگر نے بھی پبلشر کے خلاف سخت کارروائی اور کتاب سے خمینی کا نام ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

ایرانی حکومت نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ واضح رہے کہ گیارہویں صدی ہجری کے وسط میں روح اللہ خمینی کے آباؤ اجداد نے عقیدہ پھیلانے کے لیے شمالی ہندوستان خاص طور پر لکھنؤ شہر کی طرف ہجرت کی تھی۔ لکھنؤ بھارت میں شیعہ اقلیت پر مشتمل خطوں میں سے ایک ہے۔ خمینی کے دادا دہلی اور کشمیر کے درمیان رہتے تھے۔ خمینی کے بھائی مرتضیٰ نے اپنی یادداشتوں میں تصدیق کی ہے کہ ان کے رشتہ دار ہندوستان میں تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں