خلا میں موجودگی، سعودی عرب کا ’’ مرکز برائے خلائی مستقبل‘‘ کے لیے معاہدہ

سال 2022 میں سعودی خلائی معیشت کا حجم 400 ملین ڈالر رہا، مملکت کی خلائی شعبہ میں گہری دلچسپی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی خلائی ایجنسی اور ورلڈ اکنامک فورم نے ’’مرکز خلائی مستقبل‘‘ کے قیام کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ اس معاہدے سے واضح ہو رہا ہے کہ سلامتی، صحت، تعلیم اور اختراعات کے شعبوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اب خلائی شعبہ میں امکانات اور موجود مواقع کی وسعت سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی لے رہا ہے۔

سعودی عرب کے حالیہ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق خلائی مارکیٹ کا حجم 2022 میں تقریباً 400 ملین ڈالر ہے۔ سعودی خلائی مارکیٹ میں سیٹلائٹ مواصلات کے علاوہ مینوفیکچرنگ، ارتھ آبزرویشن اور زمینی شعبے کی خدمات کے مواقع موجود ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب میں قائم مرکز سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ان سیٹلائٹس کو لانچ کرنے کے لیے خدمات فراہم کرے گا۔ یہ مرکز خلائی سائنس اور ایکسپلوریشن کے ساتھ ساتھ موسمیاتی اور آب و ہوا کی خدمات میں حصہ لے گا۔ ساتھ ہی خلائی ملبے کے مسئلے کا مقابلہ کرنے کے ابھرتے ہوئے شعبوں کے متعلق بھی سیکھے گا۔

عالمی اقتصادی فورم نے توقع ظاہر کی ہے کہ خلائی معیشت کا حجم سال 2035 تک بڑھ کر 1.8 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ یہ ایسے وقت میں ہوگا جب دنیا مواصلات اور نقل و حرکت کی ٹیکنالوجیز پر تیزی سے انحصار کرتی جا رہی ہے ۔ ورلڈ اکنامک فورم نے میک کینسی اینڈ کمپنی فاؤنڈیشن کے تعاون سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ معاملہ صرف "راکٹ سائنس" سے زیادہ ہے۔ خلائی معیشت موسم کی پیشن گوئی سے لے کر کھانے یا خریداریوں کی ہوم ڈیلیوری کے ساتھ ساتھ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز سمیت ہر چیز میں اپنا بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہی ہے۔

اسی لئے سعودی عرب خلائی معیشت میں دلچسپی بڑھا رہا ہے تاکہ علم پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنے کی اپنی خواہش کے تناظر میں اختراعات کی حوصلہ افزائی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ریاض نے خلا کی طرف رجحان کے فریم ورک کے اندر قابل ذکر اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں سیٹلائٹ لانچ کرنا بھی شامل ہے۔ سعودی عرب نے 2000 اور 2019 کے درمیان تقریباً 16 سیٹلائٹ لانچ کیے تھے۔

سعودی سیٹلائٹ ’’ ایس جی ایس ون‘‘متعدد جدید سیٹلائٹ کمیونیکیشن سیکٹر میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس میں براڈ بینڈ کمیونیکیشن اور محفوظ فوجی مواصلات شامل ہیں۔ پائیدار ترقی کے مختلف شعبوں میں استعمال کے لیے دور دراز علاقوں اور آفات سے متاثرہ علاقوں کو مواصلات فراہم کرتا ہے۔

"خلائی شعبے" میں سعودی دلچسپی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں خلائی پروگراموں کے لیے ایک قومی حکمت عملی وضع کرنے کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ علاوہ ازیں اس شعبے کے امور سے متعلق ایک خصوصی ایجنسی قائم کی ہے جو خلائی سائنس کو لاگوکرتی ، ترقی دیتی اور مقامی بناتی ہے۔ ٹیکنالوجی، سائنس اور خلائی تحقیق سے متعلق مہارت کو اپنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح سعودی عرب نے کمیونیکیشن اتھارٹی کے نام کو "مواصلات، خلائی اور ٹیکنالوجی اتھارٹی" میں تبدیل کردیا ہے۔

سعودی عرب نے اپنی خلائی ایجنسی کے ذریعے خلا کے مختلف شعبوں میں سائنسی تحقیق، قومی شراکت داری اور متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کو بڑھانے کے لیے خلابازوں کے لیے مملکت کا پروگرام بھی بنایا۔ اسی پروگرام کے تحت پہلی سعودی خاتون خلا باز ریانہ برناوی اور خلا باز علی القرنی نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن کا دورہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں