سعودی معیشت 2024 میں توقعات سے بھی زیادہ ہوگی: بین الاقوامی ادارہ

پہلی سہ ماہی کے دوران سعودی جی ڈی پی کی شرح میں سہ بنیادوں پر 1.3 فیصد اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کیپٹل اکنامکس کے تحقیقی ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی معیشت اس سال کی پہلی سہ ماہی میں کساد بازاری سے ابھر کر سامنے آئی ہے۔ سعودی معیشت کی بحالی اس سال بھی جاری رہے گی۔ معیشت 2024 میں توقع سے بھی زیادہ کارکردگی دکھائے گی۔

لندن میں قائم ادارے نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اعداد و شمار نے سہ ماہی بنیادوں پر جی ڈی پی کی شرح نمو 1.3 فیصد ظاہرکی۔ معیشت کے سکڑاؤ کی رفتار کم ہوئی ہے اور سالانہ بنیادوں پر 4.3 فیصد سے کم ہوکر 1.8 فیصد پر آگئی۔

اس کا مطلب ہے سعودی عرب کی معیشت 2024 کی پہلی سہ ماہی میں 1.8 فیصد سکڑ گئی۔ سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے انکشاف کیا کہ مملکت کی حقیقی مجموعی گھریلو پیداوار میں اس سال کی پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیادوں پر 1.8 فیصد کمی آئی ہے۔ اس کی وجہ تیل کی سرگرمیوں میں 10.6 فیصد کمی ہے۔ اس دوران غیر تیل سرگرمیوں میں 2.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

کیپٹل نے بتایا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تیل کی سرگرمیوں میں پہلی سہ ماہی میں سہ ماہی بنیادوں پر 2.4 فیصد اضافہ ہوا۔ تیل کی پیداوار 2023 کی آخری سہ ماہی میں 8.98 ملین بیرل یومیہ رہی لیکن اس سال کی پہلی سہ ماہی میں 9.01 ملین بیرل یومیہ تک بڑھ گئی۔

بی ایم آئی کو توقع ہے کہ پہلی سہ ماہی میں سعودی عرب کی غیر تیل کی معیشت میں 3.4 فیصد اضافہ ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آئندہ جولائی سے شروع ہونے والی خام پیداوار میں کٹوتیوں میں متوقع نرمی کے علاوہ غیر تیل کی معیشت کی مسلسل مضبوطی پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ موجودہ سال کے باقی ماندہ عرصے کے دوران اقتصادی ترقی سالانہ بنیادوں پر مزید بڑھے گی۔ سعودی عرب کی 2024 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2.8 فیصد رہے کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں