فتح کے ساتھ حماس کی ملاقاتیں غیر سنجیدہ اور بے فائدہ ہیں: مشیر فلسطینی صدر

حماس غزہ میں کسی بھی قیمت پر اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتی، محمود عباس امریکہ سے ناراض ہیں: محمود الھباش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

فلسطینی صدر محمود عباس کے مشیر محمود الھباش نے حماس اور فتح کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کو غیر سنجیدہ اور بے فائدہ قرار دے دیا۔ جمعرات کو عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں الھباش سے حماس کے پی ایل او میں شامل ہونے کے امکان کا پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ فتح اور حماس کے درمیان ملاقاتیں اور بات چیت ہو رہی ہے۔ میرا یقین ہے کہ یہ بات چیت غیر سنجیدہ اور بے نتیجہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم دروازے بند نہیں کر رہے ہیں لیکن حماس کی طرف سے کوئی اشارے نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی سنجیدہ تجاویز ہیں۔ حماس صرف آنکھوں میں راکھ ڈالنے اور ملاقاتیں کرنے کے لیے مذاکراتی اجلاس منعقد کرتی ہے۔ حماس مفاہمت یا تقسیم کا خاتمہ نہیں چاہتی۔

الھباش نے تحریک حماس پر جنونی اور ہڑپ کر جانے والا طریقہ اپنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ غزہ کی پٹی میں اپنا وجود قائم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ چاہے اس سے فلسطینی کاز کو نقصان ہی پہنچ جائے۔ اور چاہے اس کے لیے اسرائیل کو بھی رضامند کرنا پڑے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 17 سال سے یہی منفی پوزیشن فلسطینی اتحاد کو روک رہی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ہمیں ان تمام الجھنوں میں ڈالا جس میں ہم داخل ہوئے۔ چھ جنگیں ہوئیں اور غزہ کو چھ بار تباہ کیا گیا۔ اسی سے اسرائیل کو سیاسی ذمہ داریوں سے بچنے کے عذر دیا گیا۔ یہ سب اسی ہلچل والے طرز عمل کا نتیجہ ہے۔

ان سے سوال کیا گیا کہ تو کیا پھر فلسطینی تقسیم کے اسی بند دائرے میں رہیں گے تو جواب میں الھباش نے کہا کہ حماس فلسطین لبریشن آرگنائزیشن میں اس لیے داخل ہونا چاہتی ہے تاکہ اس کا کنٹرول حاصل کیا جا سکے اور فلسطینی قومی فیصلے پر قبضہ کیا جا سکے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تنظیم کے حماس کے ساتھ مذاکرات کا آغاز 1988 میں یمن اور الجزائر میں فلسطینی اتھارٹی کے قیام سے پہلے ہوا تھا۔ جب بھی ہم کسی موڑ پر پہنچتے ہیں، حماس بھاگ جاتی ہے۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا بغاوت کے بعد بھی حماس نے مفاہمت کے تقاضوں سے گریز کیا ہے۔ تو قاہرہ، دوحہ، یا الشاطی معاہدہ کہاں ہے؟ اس بارے میں کہ آیا غزہ کو کنٹرول کرنے کے لیے رام اللہ میں فلسطینی قیادت کی جانب سے طاقت کے استعمال کے بارے میں کچھ سوچا گیا، الھباش نے کہا کہ ہماری ثقافت میں حماس کے برعکس فلسطینیوں کا خون بہانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم کوشش کرتے رہیں گے اور ہر ممکن کوشش کریں گے اور تمام ممکنہ ذرائع استعمال کریں گے جو فلسطینیوں کا خون بہانے کا باعث نہ بنیں۔ ہمارا بنیادی انحصار ہمارے فلسطینی عوام پر ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غزہ پر کنٹرول کے لیے عرب افواج کے استعمال کے امکان کے بارے میں الھباش نے کہا کہ یہ قبل از وقت کی بات ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے بعد ہی اس پر بات کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب الھباش نے کہا کہ صدر محمود عباس امریکہ سے سخت ناراض ہیں اور امریکہ کے موقف پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کسی بھی پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے حالیہ امریکی اقدام 18 اپریل کو فلسطینی ریاست کی یو این رکنیت کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قرار داد کو ویٹو کرنا ہے۔

تاہم الھباش نے امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے ساتھ ملاقات سے عباس کے انکار کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے ملاقات نہ ہونے کے متعلق کہا کہ بلنکن سے ملاقات کرنا صدر محمود عباس کے پروگرام میں شامل نہیں تھا۔ اگرچہ انہیں ملاقات کی پیشکش کی گئی تھی لیکن ان کے پاس اس ملاقات کے لیے کافی وقت نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلنکن چھ بار آئے اور کچھ بھی نیا پیش نہیں کیا۔ کیا ہم صرف ملاقات کی خاطر ملاقات چاہتے ہیں؟

الھباش نے یہ بھی کہا کہ امریکہ عرب چھ فریقی گروپ کی طرف سے پیش کردہ عرب پیپر پر کسی پیش رفت میں رکاوٹ کھڑی کر رہا ہے۔ اس پیپر میں ایک مخصوص مدت کے اندر قبضے کو ختم کرنے اور فلسطینی ریاست کے حصول کی بات کی گئی ہے۔

غزہ میں جنگ کے بعد اگلے دن کے بارے میں بات کرتے ہوئے الھباش نے کہا کہ اگلا دن سیاسی حل سے منسلک ہے۔ اس سیاسی حل میں مغربی کنارہ، غزہ اور القدس شامل ہیں۔ اب ہم صرف موجودہ دور کے بارے میں سو چ رہے ہیں۔ ہماری توجہ اپنے لوگوں کے خلاف جارحیت کو روکنے، نقل مکانی کے منصوبے کو ناکام بنانے اور لوگوں کو ان کی زمین پر مستحکم کرنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم جنگ کے اگلے روز صرف فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے فریم ورک کے تحت بین الاقوامی قانونی جواز کے مطابق ایک فلسطینی ریاست کو دیکھیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں