دوستانہ فائرنگ، اسرائیل نے غلطی سے 40 فیصد اپنے ہی ڈرونز مار گرائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ کی بھرپور حمایت اور بے پناہ فوجی اور تکنیکی صلاحیتوں سے لیس اسرائیلی افواج کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں جنگ کے دوران اپنے ہی ڈرونز کی ایک بڑی تعداد کو مار گرایا ہے۔

یہ انکشاف امریکی میرین کور کے ایک عہدیدار نے کیا۔ اس نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے اپنے بغیر پائلٹ کے ڈرونز کے 40 فیصد کو خود ہی تباہ کردیا ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل مائیکل براڈن نے میرین ڈے نمائش کے موقع پر وضاحت کی کہ اسرائیل کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ تباہ کیے گئے ڈرونز میں سے 40 فیصد کو دوستانہ فائر سے مار گرایا گیا ہے۔

اگرچہ مائیکل براڈن نے ٹائم فریم سمیت اس اعداد و شمار کے بارے میں کوئی اضافی تفصیلات فراہم نہیں کیں لیکن ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اعداد و شمار اکتوبر 2023 کی ساتویں تاریخ سے غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں سے حاصل ہوئے ہیں۔

اس قدر تعداد میں گرائے جانے والے ڈرون کی ممکنہ وجوہات پر بحث کرتے ہوئے براڈن نے کہا کہ اسرائیلی فوجی غزہ میں مصروف ہیں۔ جب وہ ایک چھوٹے ڈرون کو دیکھتے ہیں تو انہیں سوچنا ہوتا ہے کہ اگر اس کی شناخت نہیں ہوئی تو کیا کرنا چاہیے۔ کیا یہ ڈرون ان پر حملہ کردے گا یا نہیں؟ انہوں نے وضاحت کی کہ کہ ڈرون کا پتہ لگانے کے وقت اور اس کے حملہ کرنے کے وقت کے درمیان فرق عام طور پر سیکنڈوں میں ماپا جاتا ہے۔

واضح رہے اسرائیلی فوج نے بھی اس سے قبل غلطی سے اپنے ڈرون کو مار گرانے کا اعتراف کیا تھا۔ براڈن کا خیال ہے کہ یہ غلط طور پر کیا جانے والا اقدام ایک مسئلہ ہے جو فضا میں ڈرون کی تعداد میں اضافے کے ساتھ بڑھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں