ریاض میں پہلے خلیجی یورپی چیمبر آف کامرس کا افتتاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلے ’’خلیجی یورپی چیمبر آف کامرس‘‘ کا افتتاح کردیا گیا۔ یہ چیمبر یورپی یونین، سعودی عرب اور تمام خلیجی ریاستوں کے درمیان اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے اہم ترجیحات فراہم کرے گا۔ یہ سعودی عرب میں یورپی چیمبر آف کامرس کی رکن کمپنیوں کو مارکیٹ تک رسائی فراہم کرے گا۔ چیمبر کی ویب سائٹ پربتایا گیا کہ ہماری سیکٹرل کمیٹیاں مؤثر طریقے سے مختلف کراس کٹنگ اور صنعت سے متعلق مسائل اور کاروباری منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے ضروری سفارشات فراہم کریں گی۔ یہ سفارشات سعودی عرب کی طویل مدتی اقتصادی خوشحالی میں حصہ ڈالیں گی۔

ایسی یورپی کمپنیوں کی تعداد جنہوں نے اپنے علاقائی ہیڈ کوارٹرز کو سعودی دارالحکومت ریاض منتقل کرنے کے لیے لائسنس حاصل کیے ہیں کی تعداد 300 تک پہنچ گئی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے 480 غیر ملکی کمپنیوں کو راغب کرنے کے منصوبے کے تحت سعودی وزارت سرمایہ کاری کمپنیوں کے علاقائی ہیڈ کوارٹرز کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ بین الاقوامی کمپنیوں کو اپنے علاقائی ہیڈ کوارٹرز کو سعودی عرب منتقل کرنے کے لیے دفاتر، عارضی رہائش گاہوں اور اپارٹمنٹس کی فراہمی میں طریقہ کار کو آسان بنایا گیا ہے۔

جس وقت سعودی یورپی سرمایہ کاری فورم کا کام شروع کیا گیا تھا سرمایہ کاری کے وزیر انجینئر خالد الفالح نے انکشاف کیا تھا کہ گزشتہ سال بین العلاقائی تجارت کا حجم تقریباً 80 بلین یورو یا 84 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ 30 فیصد اضافہ تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے یورپی- خلیجی اقتصادی تعلقات کی خصوصیات کا ایک مختصر تاریخی جائزہ فراہم کیا ہے جس میں بتایا گیا کہ دسمبر 1987 میں خلیج تعاون کونسل کی سپریم کونسل نے اپنے آٹھویں اجلاس میں یورپی برادری کے ساتھ باضابطہ مذاکرات میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کے لیے ایک ابتدائی معاہدے تک پہنچنے کے لیے وزارتی کونسل کو یورپی برادری کے ساتھ بات چیت کرنے اور معاہدے پر حتمی دستخط کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔

پھر اگلے سال 15 جون 1988ء کو جی سی سی ممالک اور یورپی یونین کے درمیان فریم ورک کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اسے سپریم کونسل نے اپنے نویں اجلاس میں منظور کیا۔ یہ معاہدہ 1990ء کے شروع میں نافذ ہوا۔

وزارتی کونسل نے جون 1990 میں اپنے پینتیسویں اجلاس میں یورپی یونین کے ساتھ رسمی تجارتی مذاکرات میں داخل ہونے کا فیصلہ جاری کیا۔ متعدد منظور شدہ ہدایات کے مطابق مذاکراتی ٹیم کو ان مذاکرات میں داخل ہونے کا اختیار دیا۔ جی سی سی کی ویب سائٹ کے مطابق جی سی سی اور یورپی یونین کے تجارتی اور اقتصادی مفادات کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے خام تیل کے بڑے ذخائر سے لطف اندوز ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں