حضرت موسی علیہ السلام کیلئے سمندر سے راستے نکلنے کا قصہ درست نہیں: مصری محقق

یہودیوں کا مصر سے خروج نہیں ہوا، حضرت ادریس علیہ السلام سے مراد’’ اوزوریس ‘‘ ہے: ڈاکٹر وسیم السیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کچھ روز قبل مصری ماہر اثار قدیمہ زاھی حواس کا دفاع کرکے تنازع کھڑا کرنے کے بعد مصری امور کے ماہر ڈاکٹر وسیم السیسی نئے بیانات کے ساتھ پھر سامنے آگئے ہیں۔ ڈاکٹر وسیم السیسی نے پہلے زاھی حواس کے اس دعوے کا دفاع کیا تھا کہ حضرت موسی علیہ السلام کی مصر میں موجودگی اور یہودیوں کے خروج کی کہانی کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔

حضرت موسی علیہ السلام کی مصر میں موجودگی سے انکار کرنے کے بعد اب ڈاکٹر وسیم السیسی نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ سائنسی طور پر کیا ثابت ہے اور کیا نہیں، اس سے قطع نظر کرتے ہوئے مصر انبیاء کا ملک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرآن پاک میں سورہ مریم میں حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر دو آیات میں ہے۔ وہ دو آیات ہیں۔ " ﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا ۝٥٦ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا ۝٥٧﴾ اس میں ادریس سے مراد’’ اوزوریس ‘‘ ہے۔ قدیم مصری معاشرے میں اس کا درست تلفظ ’’ادوریس‘‘ ہے۔ یہ وہ تھے جنہوں نے سب سے پہلے انسانوں کو بتایا کہ مرنے کے بعد ایک دوسری زندگی ہے۔ ورنہ اس سے قبل سمجھا جاتا تھا کہ مرنے کے بعد روح تاریک سرزمین پر چلی جاتی ہے۔

قدیم مصریوں کا قرآن میں ذکر

مصری امور کے ماہر نے مزید یہ بھی کہا کہ قرآن پاک میں سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 107 قدیم مصریوں کے بارے میں بات کرتی ہے۔ آیت مبارکہ یہ ہے "قل آمنوا به أو لا تؤمنوا إن الذين أوتوا العلم من قبله إذا يتلى عليهم يخرون للأذقان سجدا"

اس آیت مبارکہ کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ سجدے میں اپنی ٹھوڑی تک جھکتے ہیں وہ قدیم مصری ہیں۔ انہوں نے کہا بہت سے دیواریں موجود ہیں جو قدیم مصریوں کو اس پوزیشن میں سجدہ کرتے ہوئے دکھاتی ہیں جس کا ذکر قرآن پاک میں اسی وضاحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔

یہود اور مصر کی سرزمین

تنقید کی اس لہر جس کا ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر زاھی حواس کو سامنا کرنا پڑا پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر وسیم السیسی نے کہا زاھی حواس نے مقدس کتابوں میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کی تردید نہیں کی بلکہ کہا ہے کہ تاریخ ایک ایسی سائنس ہے جو موجودہ چیزوں میں تلاش کرتی ہے یہ چاہے کوئی بردیہ، دیوار، مجسمہ یا کوئی ٹھوس اور ثابت چیز ہو۔ جبکہ مذہب غیب میں تلاش کرتا ہے۔ ان دونوں کی تحقیق کا ایک الگ شعبہ ہے۔ یہ ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہودی اس وقت تک مصر کے اندر نہیں تھے کہ انہیں نکالا جاتا۔ حضرت موسیٰ کے بحیرہ احمر میں سے راستے نکالنے کی کہانی غلط ہے اور مصر کی سرزمین پر اس کی موجودگی کا ابھی تک کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے۔

تاہم ساتھ ہی ڈاکٹر وسیم السیسی نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ قدیم مصری تہذیب کے اسرار و رموز جو اب تک دریافت ہوئے ہیں۔ یہ صرف 30 فیصد سے زیادہ نہیں اور 70 فیصد کی دریافت ابھی باقی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کو سائنس ثابت نہیں کر سکتی اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size