مدینہ منورہ مشرق وسطیٰ میں سب سے پہلا اور دنیا میں چوتھا آٹزم دوست شہر بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مدینہ المنورہ نے "تمکین" آٹزم ایسوسی ایشن اور امریکن بورڈ فار انٹرنیشنل ایکریڈیٹیشن اینڈ کنٹینیونگ لرننگ سٹینڈرڈز (IBCCES) کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد آٹزم دوست شہر کی حیثیت سے مشرق وسطیٰ میں پہلا اور دنیا میں چوتھا نمبر حاصل کرلیا۔ مدینہ منورہ کے امیر شہزادہ سلمان بن سلطان شہزادہ فیصل بن سلمان آٹزم سنٹر کا دورہ کیا اور اسی دوران اس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ انہوں نے اس سنٹر میں بچپن سے ہی آٹزم کی تشخیص کے کلینکس، سپیچ تھراپی کلینکس اور جامع نگہداشت کے شعبوں کا معائنہ کیا۔ یہ سنٹر آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کے شکار لوگوں کی ضروریات میں خطے کی دلچسپی کے جواب میں سامنے آیا۔

ان کوششوں کی حمایت میں الشرقیہ صوبے کے امیر نے "آٹزم فرینڈلی سٹی" پروگرام پر دستخط کرنے کی تقریب کا مشاہدہ کیا۔ اس تقریب میں پرنس فیصل بن سلمان آٹزم سینٹر میں 100 تک کی گنجائش کے ساتھ بحالی کی رہائش گاہ کی تعمیر کے منصوبے کے لیے معاہدہ کیا گیا۔ اس میں آٹزم سپیکٹرم والے لوگوں کی دیکھ بھال، علاج اور بحالی کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔

آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر میں مبتلا لوگوں کے لیے مرکز اور نظامِ خدمات کے اپنے دورے کے دوران مدینہ منورہ کے امیر نے عوامی مقامات کی تیاری اور پروگراموں اور اقدامات کو تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ مدینہ منورہ کو آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر اور ان کی ضروریات کے مطابق بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں