مشرق وسطیٰ

اسرائیلی فوج کو غزہ سے 22 برس کی شانی لوک سمیت تین یرغمالیوں کی لاشیں مل گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کے فوجیوں کو غزہ میں تین اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں حماس نے سات اکتوبر کے حملے کے دوران یرغمال بنایا تھا۔ ان میں جرمن نژاد اسرائیلی شانی لوک بھی شامل ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک پک اپ ٹرک کے پیچھے پڑی 22 سالہ شانی کی لاش کی تصویر نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی اور جنوبی اسرائیل میں کمیونٹیز پر عسکریت پسندوں کے حملے پر روشنی ڈالی۔

فوج نے دیگر دو لاشوں کی شناخت کی جو ایک 28 سالہ خاتون اميت بوسكيلا اور ایک 56 سالہ شخص اسحق جيليرنتر کی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینئل ہگاری کے مطابق تینوں کو حماس نے نووا میوزک فیسٹیول، جو غزہ کی سرحد کے قریب ایک آؤٹ ڈانس پارٹی تھی، میں قتل کیا اور ان کی لاشیں فلسطینی علاقے میں لے گئے۔

جرمن نژاد اسرائیلی شانی لوک
جرمن نژاد اسرائیلی شانی لوک

فوج نے فوری طور پر تفصیلات نہیں بتائیں کہ ان تینوں کی لاشیں کہاں سے ملی ہیں۔

گذشتہ برس سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملے کے دوران تقریباً 1200 افراد کو ہلاک کیا جن میں اکثریت شہریوں کی تھی، جبکہ تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنا لیا۔ ان میں سے آدھے افراد نومبر میں ہونے والی ایک ہفتے کی جنگ بندی کے دوران اسرائیل کی قید میں موجود فلسطینی قیدیوں کے ساتھ تبادلے میں آزاد ہو گئے تھے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں 100 کے قریب یرغمالی اب بھی قید ہیں اور 30 کے قریب لاشیں بھی موجود ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی جوابی کارروائی میں اب تک 35 ہزار سئ زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں