ایران کی ایٹمی نظریہ تبدیل کرنے کی دھمکی کیا امریکہ کو مذاکرات پر لانے کی کوشش ہے؟

ایٹمی خطرے کا سہارا لینا ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے ایرانی خوف کی عکاسی کر رہا: فرانسیسی صحافی مالبرونوٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

فرانسیسی انٹرنیشنل ریڈیو کے فارسی سیکشن نے فرانسیسی صحافی جارجس مالبرونوٹ کے اخبار ’’لی فگارو‘‘ کے ایک مضمون پر بات کی ہے۔ مالبرونوٹ 20سال سے ایران اور مشرق وسطیٰ میں ہونے والے واقعات کو کوور کر رہے ہیں۔ اپنے مضمون میں انہوں نے ایٹمی پروگرام سے متعلق ایرانی حکام کے تضادات پر روشنی ڈالی ہے۔

مصنف نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے جگہ بنانے اور ایٹمی خطرے کو دور کر کے رعایتیں حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن غزہ جنگ کے بعد خطے کی موجودہ صورتحال اس طرح کے حربے کے لیے موزوں نہیں ہے۔

مالبرونوٹ نے ابتدائی طور پر ایرانی نیوکلیئر سینٹرز پروٹیکشن اینڈ سیکیورٹی کور کے کمانڈر احمد حق طلب کے بیانات کا حوالہ دیا۔ یہ بیانات تقریباً ایک ماہ قبل دئے گئے تھے۔ احمد حق نے نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل ایٹمی مراکز کو دھمکی دے کر ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تو ایران ممکنہ طور پر اپنے ایٹمی نظریہ پر نظر ثانی کرے گا اور ایران اپنے ایٹمی معاہدے سے متعلق سابق اعلانات سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔

احمد حق طلب کے بیانات کے چار دن بعد اور ایرانی حملے پر اسرائیل کے فوجی ردعمل کے تناظر میں ایرانی پارلیمنٹ کے رکن جواد کریمی قدوسی نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر سپریم لیڈر کی طرف سے اجازت دی جاتی ہے تو ہمارے پاس پہلے ایٹمی بم کے ٹیسٹ سے قبل ایک ہفتہ ہوگا۔

تین ہفتے بعد ایران کے سابق وزیر خارجہ اور سپریم لیڈر کے موجودہ مشیر کمال خرازی نے اسی دھمکی کو دہرایا اور کہا کہ ہم نے ایٹمی بم بنانے کا فیصلہ نہیں کیا لیکن اگر ایران کے وجود کو خطرہ لاحق ہوا تو ہم اپنے ایٹمی نظریے کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اخبار ’’لی فگارو‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ 2022 میں خرازی نے خود بھی کہا تھا کہ ایران تکنیکی طور پر ایٹم بم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس نے اس کے متعلق ابھی سوچا نہیں ہے۔

ان تمام بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’لی فگارو‘‘ کے صحافی نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا تہران اپنی حفاظت اور حکومت کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی جانب پیش قدمی کو تیز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

صرف لفظوں کی جنگ

مالبرونوٹ نے اس کے بعد امواج ویب سائٹ کے حوالے سے کہا کہ ایرانی حکام کے تمام الفاظ اسرائیل کے خلاف محض لفظی جنگ ہو سکتے ہیں تاہم اس قسم کی گفتگو کا باضابطہ تکرار یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ آیا اس دور میں علی خامنہ ای کے جوہری ہتھیاروں کی قانونی ممانعت کے باوجود ایران کی ایٹمی پالیسی میں تبدیلی ممکن ہے؟ ۔

جارج مالبرونوٹ نے خلیجی ذرائع میں سے ایک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے پیغام ہے کہ موجودہ صورت حال جیسے سنگین خطرے کے پیش نظر ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو عسکری بنانے سے دریغ نہیں کرے گا اور ایٹمی تجربات پر عمل کرے گا۔

ایک ہی وقت میں’’لی فگارو‘‘ کا دعویٰ ہے کہ ایران میں طاقت متحد نہیں ہے اور یہ ممکن ہے کہ تمام مختلف فیصلہ سازی کے مراکز جوہری حکمت عملی پر متفق نہ ہوں۔ تاہم یہ بھی ہوسکتاہے کہ ظاہری اختلافات محض دھوکہ دینے کے لیے اور ایک چال کے طور پر ہوں۔ اس پیغام کے ذریعے مخالفین کو جان بوجھ کر الجھانا بھی مقصود ہوسکتا ہے خاص طور پر اس صورت میں جب ایرانی پاسداران انقلاب اور ایرانی رہنما کے آس پاس کے لوگوں نے حالیہ برسوں میں اقتدار پر اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔

مالبرونوٹ نے ایرانی نیوکلیئر سینٹرز پروٹیکشن اینڈ سیکیورٹی کور کے کمانڈر احمد حق طلب کے بیانات کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کے موقف کو بھی یاد کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ ایرانی دفاعی نظریے میں جوہری ہتھیاروں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود فرانسیسی صحافی نے کہا کہ اس معاملے میں وزارت خارجہ کا کردار بہت زیادہ اہم نہیں ہے۔

دوسری جانب کمال خرازی نے اپنے سابقہ بیانات کی تردید کرتے ہوئے گزشتہ اتوار کو ایک مختلف لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایٹمی ہتھیار رکھنے والے نہیں ہیں۔ اس حوالے سے سپریم لیڈر کا فتویٰ بھی موجود ہے اور یہ امریکہ ہے جو ایٹمی معاہدے سے دستبردار ہوا اور مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے بھی تیار نہیں تاہم ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ اسرائیل جو خطے میں واحد ایٹمی طاقت ہے وہ اپنی ایٹمی طاقت سے دستبردار ہو۔ اگر ایسا نہ ہوا تو جوہری ہتھیاروں سے پاک زون کا قیام حاصل نہیں ہوسکے گا۔

ٹرمپ کی واپسی پر تہران کی تشویش

’’لی فگارو‘‘ کے صحافی نے یہ امکان بھی اٹھایا کہ ایران کا جوہری خطرے کا سہارا ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی سے اس کے خوف کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ اس لیے اس نے مغرب کے ساتھ خاص طور پر امریکہ کے ساتھ بات چیت میں پوائنٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ مالبرونوٹ کا خیال ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس نے ایران کے علم میں لائے بغیر اسرائیل پر حملہ کردیا اور اس نے حملے سے قبل کے ہفتوں میں ایران کے سفارتی منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔

سات اکتوبر سے قبل ایران اور امریکہ سلطنت عمان کے ذریعے مذاکرات اور بات چیت کر رہے تھے۔ اب خطے میں ہونے والی اچانک پیش رفت کو دیکھتے ہوئے ایرانی شاید ایٹمی ہتھیاروں کا مسئلہ اٹھا کر واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے مضمون میں صحافی نے یہ بھی کہا کہ وقت ختم ہو رہا ہے اور غزہ کی جاری جنگ کے ساتھ حالات تہران کے لیے زیادہ سازگار نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں