’’خوش نہیں ہیں تو کام پر مت آئیں‘‘ چینی کمپنی نے انوکھی چھٹی متعارف کرا دی

چینی سوشل میڈیا صارفین نے کمپنی کی جانب سے متعارف کرائی گئی تبدیلیوں کی بھرپور حمایت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ملازمین کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کو سہارا دینے اور کام اور زندگی کے درمیان صحت مند توازن کو فروغ دینے کی کوشش میں ایک چینی کمپنی نے اپنے ملازمین کے لیے ’’ اداسی کی چھٹی‘‘ متعارف کرا دی۔ کمپنی نے ملازمین کو کہا ہے کہ اگر وہ محسوس کریں کہ وہ خوش نہیں اور کام پر جانا نہیں چاہتے ہیں تو وہ چھٹی کرلیں۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق ملک میں فوڈ سٹورز کی چین ’’بینگ ڈونگ لائی‘‘ کے مالک، بانی اور چیئرمین ’’یو ڈونگلائی‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ملازمین اداس ہوں تو سالانہ 10 دن کی اضافی چھٹی کی درخواست کر سکتے ہیں۔

یو ڈونگلائی نے اپنے ملازمین کو ایک بیان میں کہا کہ ہر ایک پر ایک وقت طاری ہوتا ہے جب وہ خوش نہیں ہوتا لہذا اگر آپ خوش نہیں ہیں تو کام پر نہ آئیں۔ انتظامیہ اس چھٹی سے انکار نہیں کر سکتی۔

کمپنی کی ملازمت کی پالیسی کے تحت ملازمین کو دن میں صرف سات گھنٹے کام کرنے ہوتے ہیں، ہفتے کے آخر میں چھٹی ہوتی ہے۔ سال کے دوران 30 سے 40 دن کی سالانہ چھٹیاں لی جاسکتی ہیں۔ نئے قمری سال کی پانچ چھٹیاں اس کے علاوہ ہوتی ہیں۔

دوسری طرف چین میں زیادہ تر دیگر کمپنیاں اپنے ملازمین کو ہفتے میں چھ دن صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک کام کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ڈونگلائی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملازمین صحت مند اور آرام دہ زندگی گزاریں تاکہ کمپنی بھی صحت مند رہے۔ چینی سوشل میڈیا صارفین نے کمپنی کی جانب سے متعارف کرائی گئی تبدیلیوں کی بھرپور حمایت کی۔

ایک صارف نے چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر تبصرہ کیا کہ ایسے اچھے مینیجرز اور اس کمپنی کے کلچر کو پورے ملک میں فروغ دینا چاہیے۔ ایک اور صارف نے نے ’’بینگ ڈونگ لائی‘‘ کے لیے کام کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا مجھے لگتا ہے کہ میں وہاں خوش اور عزت دار رہوں گا۔ چین میں کام کی جگہ کی بے چینی کے حوالے سے 2021 میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق 65 فیصد سے زیادہ ملازمین نے کام کے دوران تھکاوٹ اور ناخوش محسوس کرنے کا بتایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں