سعودی خاتون ڈاکٹر آرتھوڈانٹک میں پیٹنٹ رجسٹر کروانے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی ایک خاتون ڈاکٹر نے امریکی پیٹنٹ آفس سے ایک ایسے آلے کے لیے پیٹنٹ حاصل کیا ہے جو برقی مقناطیسی لہروں کے ذریعے نچلے جبڑے کی نشوونما کو متحرک کرتا ہے۔

ڈاکٹر افنان محمد العسیری جنہوں نے 4 سال قبل اپنی ایجاد پیش کی ایک طویل سفر کے بعد یہ کامیابی حاصل کی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں اس فتح کو مستقبل کی مزید کامیابیوں اور اختراعات کو پیش کرنے کی ترغیب سمجھتی ہوں، جو دیگر شعبوں میں امید افزا کامیابی کی عکاسی کرتی ہیں’۔

اپنی ایجاد کی کہانی کے بارے میں ڈاکٹر افنان نے ’العربیہ ڈاٹ نی‘ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں وضاحت کی کہ یہ خیال کلینک میں کچھ مریضوں کے نچلے جبڑے کی نشوونما میں تاخیر کے کیسز کے پھیلاؤ کے بعد سامنے آیا، جس نے انہیں ایک آلہ ایجاد کرنے کی ترغیب دی۔ ابتدائی مراحل میں نچلے جبڑے کی نشوونما، بچے کی ابتدائی نشوونما کی مدت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس میں مزید تحقیق کی گئی۔

ایجاد کی تفصیلات

ڈاکٹر افنان العسیری نے مزید کہا کہ یہ ایجاد ایک ایسا آلہ ہے جسے مریض مقناطیسی لہروں کا استعمال کرتے ہوئے، مخصوص تعداد پر اور مخصوص مدت کے لیے لگاتا ہے، جس کا مقصد علاج کے لیے ہدف بنائے گئے علاقوں میں نئے اسٹیم سیلز کی تشکیل کو متحرک کرنا ہے۔ یہ آلہ آرتھوڈانٹک علاج میں ایک قابل قدر جست ثابت ہو گا، اور یہ آلہ مستقبل میں بڑی ایپلی کیشنز میں داخل ہونے کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے۔ اسے کنگ سعود یونیورسٹی اور فیکلٹی کی مدد سے انٹلیکچوئل پراپرٹی میں رجسٹر کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر افنان نے آگے کہا کہ یہ ان مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے جو نچلے جبڑے کی نشوونما کے مسائل میں مبتلا ہوتے ہیں، کیونکہ یہ نشوونما کے دوران نچلے جبڑے کی نشوونما کو متحرک کرتا ہے اور اس مدت کا فائدہ اٹھا کر ہڈیوں کے نئے خلیات کو متحرک کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں