سعودی عرب: منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق تربیتی پروگرام شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عرب فورم برائے انسداد بدعنوانی باڈیز اور مالیاتی تحقیقاتی یونٹس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے جامع قومی تربیتی پروگرام کا آغاز کردیا۔ اس پروگرام میں سعودی عرب میں مالیاتی اور غیر مالیاتی اداروں کے رہنماؤں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ پروگرام کی مدت کو اٹھارہ ماہ تک بڑھایا گیا ہے اور اس میں قانونی خلاف ورزیوں اور مشتبہ سرگرمیوں کی روک تھام، تجزیہ اور رپورٹنگ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے میں انسانی کیڈرز کی صلاحیتیوں پر زور دیا جائے گا۔

Advertisement

فنانشل اکیڈمی کے سی ای او مانع آل خمسان نے وضاحت کی کہ جامع قومی تربیتی پروگرام منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے شعبے میں انسانی کیڈرز کی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ے۔ اسے ریاستی سلامتی اور بین الاقوامی سطح پر معروف ماہر ایوانوں میں سے ایک کے طور پر فنانشل اکیڈمی نے صدر مملکت کے تعاون سے ڈیزائن کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فنانشل اکیڈمی پیشہ ورانہ اور خصوصی مالیاتی تربیت کے شعبے میں ایک سرکردہ ادارے کے طور پر مالیاتی جرائم کی سنگینی اور معاشروں اور معیشتوں پر ان کے منفی اثرات سے پوری طرح آگاہ ہے۔

تعمیل کے شعبوں میں انسانی وسائل کی ترقی، مالیاتی جرائم، منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے ہم نے تعاون اور شراکت داری کو مضبوط بناتےہوئے اس شعبے میں تربیتی پروگراموں، خصوصی پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس، آگاہی میٹنگز اور سیمیناروں کا پیکیج تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ مقامی انسانی کیڈروں کو مہارت اور علم فراہم کرنے اور بہترین عالمی طریقوں کو اپنانے کے قابل بنانے کے لیے کاوشیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فنانشل اکیڈمی سعودی ’’ویژن 2030‘‘ کے مقاصد کے فریم ورک کے اندر رہ کر بدعنوانی اور مالیاتی جرائم سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو معاونت اور تکنیکی مشورے فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اکیڈمی نے بڑی تعداد میں خصوصی تربیتی پروگراموں کو نافذ کیا ہے۔ منی لانڈرنگ کا مقابلہ کرنے اور دہشت گردی کی مالی معاونت، گورننس، مالی فراڈ اور اندرونی آڈیٹنگ جیسے شعبوں میں 545 تربیتی پروگراموں کا انعقاد کیا ہے۔ ان پروگراموں سے متعلقہ سرکاری اداروں کے علاوہ بینکنگ، فنانس، انشورنس اور سکیورٹیز کے شعبوں میں مالیاتی اداروں کے ملازمین کے تقریبا 9000 افراد مستفید ہوئے ہیں۔

فنانشل اکیڈمی کے سی ای او نے انسانی وسائل کی قابلیت کی سطح کو بڑھانے کے لیے خصوصی پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا اکیڈمی نے معروف عالمی پیشہ ورانہ انجمنوں اور اداروں کے ساتھ شراکت کرکے نمایاں پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس کے پروگرام پیش کئے ہیں۔ امریکن ایسوسی ایشن آف سرٹیفائیڈ اینٹی منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ (اے سی اے ایم ایس) اور انٹرنیشنل ایسوسی ایشن ان سرٹیفکیٹس میں سب سے نمایاں "ایڈوانسڈ سرٹیفکیٹ ان ریگولیٹری کمپلائنس اینڈ کمبیٹنگ فنانشل کرائم" تھا۔ اسے ہم نے انٹرنیشنل کمپلائنس ایسوسی ایشن (آئی سی اے ) کے تعاون سے عرب نائز کرکے لاگو کیا تھا۔ اکیڈمی کے تحت ان پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس رکھنے والوں کی تعداد 2500 سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں