حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نہیں گرما گرمی، ایران کی ریڈ لائن کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان اسرائیل کی سرحد پر آٹھ مہینوں سے جھڑپیں جاری ہیں۔ وقت بہ وقت دونوں ایک دوسرے کو بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کے انتباہات بھی دیتے آرہے ہیں تاہم اب تک حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کھلی جنگ شروع نہیں ہوئی ہے۔

واشنگٹن میں اکثر ایسی اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ ایران نے امریکیوں اور باقی فریقوں کو مطلع کیا ہے کہ حزب اللہ ایک سرخ لکیر ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر اسرائیل نے حزب اللہ کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے اور اپنی شمالی سرحدوں سے دور کرنے کے لیے جامع جنگ شروع کی تو ایران خاموش نہیں بیٹھا رہے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی جانب سے اس حوالے سے معاملے کو سسمجھنے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران مشرق وسطیٰ کے معاملات اور حزب اللہ کے ایران کے ساتھ تعلقات اور فروری میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت سے آگاہ امریکی حکام سے رائے لی گئی تو دو متضاد جوابات سامنے آئے۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایران کی جانب سے حزب اللہ کے لیے ایران کے طاقت استعمال کرنے کی معلومات سے آگاہ ہیں لیکن ان معلومات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔ دوسرے عہدیدار نے ایران کی جانب سے ایسے کسی خطرے سے انکار کیا اور کہا وہ حزب اللہ کے لیے ایران کے فوجی طاقت استعمال کرنے کا خطرہ نہیں دیکھ رہے۔

امریکیوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحادث ڈاٹ نیٹ کو جس چیز کی تصدیق کی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ سات اکتوبر سے غزہ سے باہر جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوشاں ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ امریکی حکام نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں درپیش مسئلے پر توجہ دینی چاہیے اور ایک ہی وقت میں دو جنگیں شروع نہیں کرنی چاہیے۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امریکی انتظامیہ اور صدر جو بائیڈن اسرائیل پر لبنان میں جامع جنگ شروع نہ کرنے کے لیے کافی دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ہم ان پیغامات کو دونوں فریقوں تک پہنچانے کے لیے تمام چینل استعمال کر رہے ہیں۔

گزشتہ کچھ دنوں میں حزب اللہ اور اسرائیل دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کے مظاہر دیکھے گئے۔ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کی سرزمین کے اندر زیادہ حد تک میزائل داغا گیا۔ اسرائیلی فوج نے بھی سرحد سے دور لبنان کے اندر تک حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس حوالے سے ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ موجودہ حالات نشاندہی کر رہے ہیں کہ اسرائیل ایک وسیع حملہ کر سکتا ہے اور حزب اللہ اور شاید لبنان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے۔

لیکن حزب اللہ اپنے مختصر اقدامات میں اضافہ کر رہی ہے وہ درحقیقت اسی طرح کی جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان جنگی صلاحیتیں غیر مساوی ہیں لیکن جو کچھ دونوں فریق کر رہے ہیں وہ اپنے سامعین کو یہ بتا رہے ہیں کہ وہ قابل اور مضبوط ہیں۔

امریکی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ دونوں ہی کھلی جنگ نہیں چاہتے۔ دونوں جو کچھ کر رہے ہیں اس میں احتیاط بھی برت رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ اطمینان محسوس کر رہی کہ حالات "کنٹرول" میں ہیں تاہم وہ جانتی ہے کہ اگر معاملات اسی طرح جاری رہے تو وہ صورت حال میں کسی دھماکے کا باعث بن سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں