سعودی عرب کی ایران کو ہیلی کاپٹر حادثہ کے تناظر میں ممکنہ تعاون کی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’سعودی حکومت ایران کے صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کے حوالے سے میڈیا میں زیر گردش خبروں پر گہری تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے۔‘

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ’ ہماری دعائیں ایرانی صدر اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہیں۔ اللہ انہیں اپنی حفاظت میں رکھے۔‘ بیان میں کہا گیا کہ ’مملکت ان مشکل حالات میں برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ کھڑی ہے اور ایرانی سروسز کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کےلیے تیار ہیں۔‘

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبدالہیان کے ہیلی کاپٹر کو ملک کے مشرقی علاقے میں ’ہارڈ لینڈنگ‘ کرنا پڑی ہے۔ یہ واقعہ اتوار کو اس وقت پیش آیا جب ایرانی صدر آذربائیجان سے واپس آ رہے تھے۔

برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز نے ایران کے وزیرداخلہ احمد واحدی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’کانوائے میں شامل صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی ہارڈ لینڈنگ ہوئی ہے۔‘ ایرانی نیوز ایجنسی اِرنا نے رپورٹ کیا کہ موسم خراب ہونے کہ وجہ سے ریسکیو آپریشن میں پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔

علاوہ ازیں عراقی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’ وزارت داخلہ، ہلال احمر اور دیگر متعلقہ اداروں کو سرچ آپریشن میں ہمسایہ ملک ایران کی مدد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔‘

قطر نے بھی کہا ہے کہ ’ سرچ آپریشن میں ایران کی ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہیں۔‘ یورپی یونین کا کہنا ہے ’ایران کو ہیلی کاپٹر کی تلاش میں مدد دینے کے لیے اپنی رپیڈ رسپانس میپنگ سروس کو فعال کردیا ہے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں