حادثہ کے شکار ہیلی کاپٹر میں ابراہیم رئیسی کی آخری موجودگی کی ویڈیو آگئی

حقائق تصدیق ٹرینڈنگ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور سپریم لیڈر علی خامنہ کے نمائندے کی اس ہیلی کاپٹر میں آخری موجودگی کو دکھایا گیا ہے۔ اس کلپ میں رئیسی کو ہیلی کاپٹر کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے دکھایا گیا ۔ اس کے ساتھ ہیلی کاپٹر کے اترنے سے پہلے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان بھی موجود ہیں۔

اتوار کے روز ایرانی صدر نے مشرقی آذربائیجان صوبے کا دورہ کیا جہاں انہوں نے خاص طور پر اپنے آذربائیجانی ہم منصب الہام علییف کے ساتھ دونوں ملکوں کی درمانی سرحد پر ایک ڈیم کا افتتاح کیا۔ یہ ویڈیو کلپ اس وقت سامنے آیا ہے جب ابھی تک ابراہیم رئیسی اور حسین امیر کا حادثہ کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر مل نہیں سکا ہے۔ ہیلی کاپٹر کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ جہاں ہیلی کاپٹر غائب ہوا اس علاقے میں دھند بہت زیادہ ہے اور بارش کے درمیان افقی حد نگاہ 5 میٹر سے بھی کم ہے۔

ایرانی صدر کے لیے جس علاقے کی تلاش کی جا رہی ہے وہ پہاڑی اور جنگلاتی ہے جس کی وجہ سے تلاش کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے ایرانی ہلال احمر کے متعدد ارکان کی گہری دھند میں چہل قدمی کی تصاویر نشر کی ہیں۔ ٹیلی ویژن چینل نے مشہد شہر کی ایک مسجد سمیت متعدد مساجد میں صدر کے لیے دعا مانگنے والے نمازیوں کی تصاویر بھی نشر کیں۔

ابراہیم رئیسی کے ساتھ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان بھی اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں میں شامل تھے۔ 20 سے زیادہ امدادی ٹیمیں ہیلی کاپٹر کی تلاش میں روانہ کی گئیں۔ یہ ٹیمیں ڈرونز، ریسکیو کتوں سمیت مکمل آلات سے لیس تھیں۔

رئیسی نومبر 1960 میں شیعوں کے مقدس شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا بیشتر حصہ عدالتی نظام میں مختلف عہدوں پر رہ کر گزارا۔ وہ خاص طور پر تہران کے پراسیکیوٹر جنرل اور پھر ملک کے پراسیکیوٹر جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ ایرانی صدر کا نام امریکی حکام کی اس بلیک لسٹ کے افراد میں شامل ہے جن پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ تاہم ان الزامات کو تہران میں حکام نے مسترد کر دیا ہے۔

ہیلی کاپٹر میں 60 سال کے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان بھی سوار تھے۔ وہ جولائی 2021 میں وزیر خارجہ بنے تھے۔ سفارتی عہدیدار کے طور پر انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ایران نواز دھڑوں کی بھرپور حمایت کی ہے۔ وہ پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر بااثر جنرل قاسم سلیمانی کے بھی قریبی تھے۔ قاسم سلیمانی کو 2020 میں بغداد میں ایک حملہ کرکے امریکہ نے مار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں